زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کراچی:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ 1.2ارب ڈالر کے لیے اسٹاف لیول معاہدے سے قسط کے اجراء میں تاخیر کے خدشات ختم ہونے، آئی ایم ایف حکام کا کسی نئے ٹیکس عائد کرنے کی شرط نہ رکھنے اور ملک میں مزید غیرملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہونے سے زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں منگل کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
چائنیز مارکیٹ میں پاکستان کا نیا پانڈا بانڈز متعارف کیے جانے، ستمبر میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ستمبر کے دوران 19کروڑ 60لاکھ ڈالر کے مزید انفلوز کی آمد سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 30پیسے کی کمی سے 280روپے 85پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔
لیکن معیشت میں طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 03پیسے کی کمی سے 281روپے 12پیسے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 05پیسے کی کمی سے 282روپے 15پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈالر کی
پڑھیں:
سونے کی مارکیٹ غیر دستاویزی ،غیر شفاف قیمتوں کی شکار
سونے کے تاجروں کی بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ، ٹیکس چوری کے لیے کیش ٹرانزیکشن
ملک میں 90فیصد سے زیادہ سونے کی تجارت غیر رسمی چینلز سے ہونے کا انکشاف
ملک میں 90 فیصد سیزیادہ سونے کی تجارت غیر رسمی چینلز سے ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔مسابقتی کمیشن نے سونے کی مارکیٹ پر ’’اسسمنٹ اسٹڈی‘‘ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق 2024میں 17ملین ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا۔ پاکستان میں سالانہ 60سے 90ٹن تک سونے کی کھپت ہوتی ہے ، پاکستان میں سونے کی مارکیٹ غیر دستاویزی اور غیر شفاف قیمتوں کا شکار ہے ۔رپورٹ کے مطابق سونے کے تاجروں کی بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ، ٹیکس چوری کے لیے کیش ٹرانزیکشن کی جاتی ہیں، تاجروں کے گروہ سونے کی قیمتوں اور سپلائی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ گولڈ مارکیٹ کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اتھارٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ مسابقتی کمیشن کے مطابق معیار جانچنے کی ناکافی سہولیات کے باعث ملاوٹ اورصارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مسائل عام ہیں، غیردستاویزی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے سونے کا زیادہ تر لین دین نقد ہوتا ہے ، ملک میں سونے کی ریفائننگ تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے ، سونے کی درآمدات، فروخت، خالص ہونے سے متعلق قابل اعتماد ڈیٹا موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق مختلف شہروں کی ایسوسی ایشن روزانہ کی بنیادوں پر قیمتوں کا تعین کرتی ہیں، سونے کی مارکیٹ ریگولیٹ کرنے کے لیے جامع ریگولیشن موجود نہیں، ملک میں سونے کے نرخ مقرر کرنے کا کوئی مارکیٹ میکنزم موجود نہیں۔مسابقتی کمیشن کا کہنا ہے کہ سونے کی ٹرانزیکشن پر پیچیدہ ٹیکس نظام اسمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کو فروغ دیتا ہے ، سونا کا ڈیٹا نہ ہونے سے موثر پالیسی سازی ممکن نہیں ہے ، گولڈ مارکیٹ منظم کرنے کیلئے مسابقتی کمیشن نے جامع اصلاحات تجویز کردیں۔مسابقتی کمیشن رپورٹ کے مطابق پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی تشکیل دی جائے ، سونے کی لائسنسنگ، درآمدات،اینٹی منی لانڈرنگ ریگولیشنز نفاذ کیلئے جامع اتھارٹی قائم کی جائے ، سونے کے معیار کی جانچ اور درجہ بندی کو لازمی قرار دیا جائے ، سونے کی خرید و فروخت ایف بی آرٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک کی جائے ، ترکیہ کے ماڈل پر گولڈ بینک کا نظام قائم کیا جائے ۔رپورٹ کے مطابق ریکو ڈیک منصوبہ سونے کی سپلائی چین کو بدلنے کی ممکنہ طاقت رکھتا ہے ، ریکوڈیک گولڈ پراجیکٹ 37 سالہ دورانیے میں تقریبا 74 ارب ڈالرمالیت کا سونا نکالے گا۔ ریکو ڈیک منصوبے کے کمرشل آغاز سے پہلے گولڈ مارکیٹ کیلئے ریگولیشنز متعارف کروانے ضرووری ہیں۔