ہم روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں، ابو محمد الجولانی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
روسی صدر سے اپنی ایک ملاقات میں ابو محمد الجولانی کا کہنا تھا کہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت، خطے و عالمی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج دمشق پر قابض، باغی گروپ کے سربراہ اور شام کے خود ساختہ صدر "ابو محمد الجولانی" (احمد الشرع) نے روسی صدر "ولادیمیر پیوٹن" سے ملاقات كی۔ اس موقع پر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ہمارے شام کے ساتھ تقریباً 80 سال سے مضبوط تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور شام کے درمیان تعاون، دونوں ممالک کے لئے مثبت نتائج کا حامل ہوگا۔ روسی صدر نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے ذریعے، ماسکو اور دمشق کے درمیان رابطے کے لئے تیار ہیں۔ ولادیمیر پیوٹن نے شام میں پارلیمانی انتخابات کو بڑی کامیابی قرار دیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کردار ادا کریں گے۔
روسی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت دوستانہ رہے ہیں۔ دوسری جانب ابو محمد الجولانی نے کہا کہ ہم شام اور روس کے درمیان مضبوط تعلقات کا یقین دلاتے ہیں۔ ہم ان تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم روس کے ساتھ ماضی کے معاہدوں کا احترام کرتے ہیں۔ ابو محمد الجولانی نے واضح کیا کہ ہم خطے اور بین الاقوامی سطح پر تمام ممالک کے ساتھ سیاسی و اسٹریٹجک تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں روس سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روس کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو دوبارہ تعریف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت، خطے و عالمی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ابو محمد الجولانی کی کوشش کر رہے ہیں نے کہا کہ ہم کے درمیان انہوں نے کے ساتھ روس کے
پڑھیں:
پاکستان دوطرفہ تجارت کے فروغ کیلئے مصر کے ساتھ 250 کاروباری اداروں کی فہرست شیئر کرے گا، اسحٰق ڈار
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے 250 کاروباری اداروں کی فہرست مصر کے ساتھ شیئر کرے گا۔
یہ بیان انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا، جب کہ ان کے ہمراہ مصری وزیر اعظم بدر عبد العاطی بھی موجود تھے، جو 2 روزہ سرکاری دورے کے لیے گزشتہ رات اسلام آباد پہنچے، دورے کے دوران بدر عبد العاطی کئی اہم امور پر بات چیت کریں گے، جن میں غزہ اور سوڈان کے تنازعات، ایرانی جوہری پروگرام پر اختلافات، اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے طریقے شامل ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ بدر عبد العاطی کا دورہ پاکستان اور مصر کے برادرانہ تعلقات کی طویل مدت کی دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ آج ہونے والی بات چیت پاکستان-مصر تعلقات کی مضبوطی کو دوبارہ اجاگر کرتی ہے اور دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی، اقتصادی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی تعلقات کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھایا جائے۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے تعاون کے مزید منظم فریم ورک پر کام کرنے اور شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور وہ پُر اعتماد ہیں کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے نئے مواقع کھولے گا۔
اسحٰق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے بدر عبد العاطی کے ساتھ آج کاروبار سے متعلق بات چیت میں خاص توجہ دی کہ کس طرح دونوں ممالک باہمی سرگرمیوں کو بڑھا سکتے ہیں، جسے ڈپٹی وزیراعظم نے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کے حجم کے ساتھ ’ناکافی‘ قرار دیا۔
????LIVE: Joint Press Conference between the DPM/FM of Pakistan and FM of Egypt https://t.co/SwDM0PgBUq
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 30, 2025
اسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ ’دونوں ممالک کے گہرے تعلقات اور محبت کے پیش نظر ہم نے طے کیا کہ پاکستان مصر کے ساتھ ملک کی معیشت کے اہم شعبوں کی نمائندگی کرنے والے 250 کاروباری اداروں کی جامع فہرست شیئر کرے گا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کاروباری اداروں کو سہولت اور تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ دوطرفہ تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو‘۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی حالات کا جائزہ بھی لیا، خاص طور پر غزہ کی سنگین صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان مصر کے انسانی ہمدردی کے کردار، ثالثی کے اقدامات اور سفارتی تعلقات کو سراہتا ہے جو جنگ بندی قائم رکھنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان مصر کو مسلم دنیا میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہر سطح پر جاری تعلقات کی توقع رکھتا ہے‘۔
دونوں وزرا نے بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر، افغانستان اور کثیر الجہتی فورمز پر تعاون پر بھی بات چیت کی۔
’پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تزویراتی سطح تک بلند کرنا چاہتے ہیں‘
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے اپنے بیان میں پاکستان کو اپنا ’دوسرا گھر‘ قرار دیتے ہوئے حالیہ دہشت گرد حملوں میں ہونے والے انسانی جانی نقصان پر تعزیت کا پیغام دیا۔
بدر عبد العاطی نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑے ہیں‘۔
انہوں نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں مشترکہ چیلنجز ہمیں مل کر کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اپنے تعلقات کو تزویراتی سطح تک بلند کریں‘۔
بدر عبد العاطی نے پاکستان اور مصر کے درمیان موجودہ باہمی مکالمہ اور تعاون کے ادارہ جاتی نظام، خاص طور پر مشترکہ وزارتی کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کا آخری اجلاس 2010 میں قاہرہ میں ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’اب وقت ہے کہ آئندہ جوائنٹ کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے اور تعاون کے تمام شعبوں بشمول سیاست، اقتصادیات، سرمایہ کاری، تجارت، سیکیورٹی، مذہب اور ثقافت کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا جائے‘۔
بدر عبد العاطی نے کہا کہ صدر عبد الفتاح السیسی نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کریں، اور انہوں نے کہا کہ ’ہماری شراکت داری کی کوئی حد نہیں ہے‘۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’بدر عبد العاطی کا دورہ معاشی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے‘۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان مصر کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہم اس دورے کو اپنے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے اہم موقع سمجھتے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’مختلف سطحوں پر حالیہ ملاقاتوں، بشمول عالمی سطح کے علاقائی اور کثیر الجہتی فورمز کے دائرہ کار میں ہونے والی بات چیت میں مثبت پیش رفت دیکھ کر خوشی ہے‘۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان اور مصر کے بھائی چارے کا تعلق دنیا بھر میں معروف ہے، اور ہم دونوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے ممالک کے سفارتی، اقتصادی، تجارتی، کاروباری، سیکورٹی اور دفاعی تعلقات کو بہت بلند سطح تک لے جائیں‘۔
دفتر خارجہ کے مطابق ڈار نے آج صبح وزیر خارجہ عبد العاطی کو وزارت خارجہ پہنچنے پر خوش آمدید کہا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنما اہم دوطرفہ مشاورت بھی کریں گے۔