ایران اور پاکستان سے مہاجرین کی ایک ہی دن میں بڑی تعداد افغانستان واپس
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ایران اور پاکستان سے مہاجرین کی ایک ہی دن میں بڑی تعداد افغانستان واپس چلی گئی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے ہائی کمیشن برائے امورِ مہاجرین کے مطابق صرف ہفتے کے روز دونوں ہمسایہ ممالک سے مجموعی طور پر تقریباً 12 ہزار افراد اپنے مک واپس پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق واپس آنے والوں میں 2 ہزار سے زائد خاندان شامل تھے، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور وہ افراد بھی تھے جو برسوں سے سرحد پار زندگی بسر کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واپسی کسی ایک مقام سے نہیں بلکہ مختلف سرحدی گزرگاہوں سے بیک وقت ریکارڈ کی گئی۔
کمیشن کی تفصیلات کے مطابق افغان حکام نے سرحدی مراکز پر خصوصی انتظامات کیے ہیں جہاں واپس آنے والے شہریوں کو فوری رہائش کے لیے عارضی ٹھکانے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں خوراک، پینے کا صاف پانی، ابتدائی طبی مدد اور ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ خاندان محفوظ طریقے سے اپنے علاقوں تک پہنچ سکیں۔
سرکاری نمائندوں کے مطابق حالیہ دنوں میں مہاجرین کی واپسی کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے جس کے باعث انتظامیہ نے اضافی اسٹاف تعینات کیا ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں افغان پناہ گزینوں کی تعداد 60 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں سب سے زیادہ تعداد ایران اور پاکستان میں مقیم ہے۔ ان میں بڑی تعداد غیر دستاویزی افراد کی ہے، جو کئی دہائیوں سے مختلف حالات کے باعث اپنے ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔
افغانستان میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام، روزگار کے محدود مواقع اور کئی خاندانوں کے لیے جنگوں کے مسلسل اثرات نے بیرونِ ملک رہائشیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ واپسی کرنے والے متعدد مہاجرین کے مطابق وہ برسوں بعد اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، مگر مستقبل کے بارے میں اب بھی بے یقینی برقرار ہے۔
سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہ ہے جو معاشی دباؤ، قانونی پابندیوں اور رہائشی اجازت ناموں میں سختی کے سبب پاکستان اور ایران میں مزید قیام جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ بہت سے خاندانوں نے مہاجر کیمپوں اور بستیوں میں سخت حالات کا سامنا کیا، جبکہ چند افراد نے بتایا کہ مقامی قوانین اور کریک ڈاؤن کے باعث انہیں اپنے وطن واپسی کا فیصلہ فوری طور پر کرنا پڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بڑی تعداد کے مطابق
پڑھیں:
صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
نیویارک: امریکا سے اسپین جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو دورانِ سفر اس وقت واپس موڑ دیا گیا جب ایک بلوٹوتھ ڈیوائس کے مشکوک نام نے سیکیورٹی الرٹ پیدا کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 236 ہفتے کے روز نیوآرک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے شہر پالما ڈی مایورکا کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ بوئنگ 767 طیارے میں تقریباً 190 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔
پرواز کو روانہ ہوئے تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے کہ اچانک سیکیورٹی خدشات کے باعث پائلٹ نے طیارے کا رخ واپس نیوآرک کی جانب موڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران مسافروں کو اپنے بلوٹوتھ آلات بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم ایک ڈیوائس مسلسل سسٹم میں Bomb کے نام سے ظاہر ہو رہی تھی۔
عملے کی جانب سے متعدد اعلانات کے باوجود متعلقہ ڈیوائس کی شناخت نہ ہونے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے، جس کے بعد ایئرلائن اور پائلٹ نے احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو اتار لیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جہاز کی مکمل تلاشی لی۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور دیگر اداروں نے بھی اضافی جانچ پڑتال کی۔
بعد ازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مشکوک ڈیوائس دراصل ایک 16 سالہ مسافر کی فٹ بِٹ (Fitbit) اسمارٹ ڈیوائس تھی، جس کا نام Bomb رکھا گیا تھا۔ اسی نام کی وجہ سے سیکیورٹی نظام میں غلط فہمی پیدا ہوئی اور پرواز کو واپس موڑنا پڑا۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طیارے کو واپس لایا گیا تھا۔ تمام جانچ مکمل ہونے کے بعد مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے اسپین روانہ کیا گیا، جو اگلے روز اپنی منزل پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) بھی واقعے کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اب تک کسی شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ یا الزام عائد نہیں کیا گیا۔