سندھ ہائیکورٹ ، وکلاء اور پولیس اہلکار کے درمیان ہاتھا پائی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پولیس افسرسے نامناسب رویہ اختیار کیا گیا ، رجسٹرار کو لکھا جائیگا،ڈی آئی جی ساؤتھ
ترمیم کیخلاف وکلاء کنونشن تنازع کا شکار،جنرل سیکریٹریز کا ہر صورت کرنے کا اعلان
(رپورٹ:افتخار چوہدری)سندھ ہائی کورٹ کے باہر وکلاء اور پولیس اہلکار کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی۔اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے میڈیاسے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے باہر پولیس افسر کے ساتھ نامناسب رویہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو لکھا جائے گا، قانونی طور پر بارز کو بھی اس حوالے سے لکھا جائے گا۔ڈی آئی جی اسد رضا کا کہنا تھا کہ قانونی کارروائی کے حوالے سے تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء کنونشن تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔کراچی بار اور سندھ ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکریٹریز نے 27ویں ترمیم کے خلاف وکلاء کنونشن ہر صورت کرنے کا اعلان کیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مرزا سرفراز کی جانب سے 22 نومبر کو بلایا گیا وکلاء کنونشن ہائی کورٹ بار کے صدر سرفراز میتلو اور مینجنگ کمیٹی کے ممبران نے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا کہ اعزازی سیکریٹری کو وکلاء کنونشن بلانے کا اختیار نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ ہائی کورٹ وکلاء کنونشن حوالے سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔