لبنانی وزیر خارجہ کے نام جاری اپنے ایک بیان میں سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں باہمی تعلقات اور تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے اپنے لبنانی ہم منصب "یوسف رجی" کے نام ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے لبنان کے قومی دن کی مناسبت سے انھیں اور لبنانی حکومت و عوام کو مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کی عوام کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں باہمی تعلقات اور تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب آج صبح ہی ایرانی صدر "ڈاکٹر مسعود پزشکیان" نے اپنے لبنانی ہم منصب "جوزف عون"کے نام ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران، ماضی کی طرح لبنانی حکومت و عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ لبنان میں استحکام اور تمام مذاہب و قبائل کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی حمایت، ایران کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے صیہونی اشتعال انگیزی بالخصوص لبنان کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے لبنانی علاقوں سے قابض صیہونی افواج کی واپسی کی ضرورت پر زور دیا۔ آخر میں انہوں نے جوزف عون کے لیے صحت و کامیابی کی دعا کی اور لبنانی عوام کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے درمیان انہوں نے کے نام

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد