پاکستان میں دہائیوں بعد سرد ترین سردی متوقع، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان اس سال دہائیوں کی سرد ترین موسمِ سرما کا سامنا کرے گا، جب کہ ماہرین نے لا نینا (La Niña) کے اثرات کے باعث غیر معمولی درجہ حرارت میں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔
اقوام متحدہ اور انٹرسیکٹر کوآرڈینیشن گروپ (ISCG) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور شمالی پنجاب میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری کم رہنے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی علاقوں میں ہلکی یا معمول کی بارشیں متوقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق لا نینا اس وقت بنتی ہے جب بحرالکاہل (Pacific Ocean) کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے کم ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں غیر معمولی موسمی تبدیلیاں، بارشوں اور ٹھنڈ میں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی غذائی قلت، صحت کے مسائل اور رہائشی مشکلات موجود ہیں، اور اب شدید سردی ان مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ کھریف فصلوں کی کٹائی میں تعطل، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض میں اضافہ، اور پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ اس سردی کے موسم کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں 12 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین سیلاب کے دوران زیرِ آب آگئی، جس سے چاول، کپاس اور گنے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ربیع سیزن کی بوائی بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے خوراک اور روزگار کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 229,000 سے زائد گھروں کی تباہی کے باعث لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے سرد موسم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس سے نزلہ، زکام، ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور ڈینگی کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق، لا نینا کی موجودہ لہر ستمبر 2025 میں شروع ہوئی اور اس کے فروری 2026 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔