امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں مصر کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں امریکی مذاکرات کار غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ قریباً طے پا چکا ہے اور ممکن ہے کہ وہ ہفتے کے روز مشرقِ وسطیٰ روانہ ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات مصر میں جاری ہیں اور جلد پیشرفت متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی مذاکرات مثبت سمت میں، مصری صدر کی ٹرمپ کو قاہرہ آنے کی دعوت

گفتگو کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کمرے میں داخل ہوئے اور صدر ٹرمپ کو ایک نوٹ دیا۔ ٹرمپ نے اسے پڑھ کر بتایا کہ مجھے ابھی وزیرِ خارجہ کی جانب سے نوٹ ملا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں معاہدے کے بہت قریب ہیں، اور انہیں میری فوری ضرورت ہے۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ صدر ممکنہ طور پر جمعے کو اپنا سالانہ طبی معائنہ مکمل کرنے کے بعد خطے کا دورہ کریں گے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس نوٹ میں لکھا تھا کہ آپ کو جلد از جلد ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کی منظوری دینا ہوگی تاکہ آپ معاہدے کا اعلان سب سے پہلے کر سکیں۔

مزید پڑھیں: سعودی کابینہ کیجانب سے صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے اقدامات کا خیر مقدم

صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اب جانا ہوگا تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے کچھ مسائل حل کر سکوں۔

ذرائع کے مطابق امریکی، مصری اور قطری مذاکرات کار اس وقت غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے حتمی نکات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ٹرمپ جنگ بندی معاہدہ دورۂ مصر، غزہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جنگ بندی معاہدہ

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل