data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور میں مذہبی جماعت کے حالیہ پرتشدد احتجاج کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق لاہور سے مریدکے تک ہونے والے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ، تشدد اور قانون شکنی میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے جیوفینسنگ اور سی سی ٹی وی فوٹیجز سے مدد لی جا رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف مقدمات میں اب تک 253 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ مزید گرفتاریوں کے لیے ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق موبائل فارنزک کے ذریعے توڑ پھوڑ میں ملوث مظاہرین کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ گرفتار افراد کے واٹس ایپ گروپس کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ دیگر شریک افراد تک پہنچا جا سکے۔

پولیس نے بتایا کہ درج مقدمات میں دہشت گردی، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور پولیس پر حملے کی دفعات شامل ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی اور شواہد کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سوشل میڈیا پر من گھڑت پروپیگنڈا، صوبائی منافرت پھلانے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کا آغاز

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے  ورک و وزٹ ویزوں پر بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو امیگریشن کی جانب سے آف لوڈ کیے جانے کے متعلق سوشل میڈیا پر من گھڑت پراپگنڈہ کرنے اور صوبائی منافرت پھلانے میں ملوث عناصر کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کے لیے آغاز کردیا۔

ابتداہی طور پر 15 سے زاہد اکاؤنٹس کی نشاندہی بھی کرلی گی، ایف آئی اے نے من گھڑت معلومات پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کرکے کاروائی کا آغاز کردیا۔

15 سے زائد اکاؤنٹس منظم و بے بنیاد  پراپگنڈہ  و صوبائی منافرت پھیلانے میں ملوث پائے گئے، بےبنیاد پروپیگنڈا میں شامل عناصر کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے زریعے پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جاری ہے۔

ورک اور وزٹ ویزوں پر بیرون ممالک جانے والے پاکستانیوں کو ایئرپورٹس پر روکے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے افواہیں قرار دیکر اہم وضاحت جاری کی تھی۔

ملک بھر کے ائیرپورٹس پر ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے ورک اور وزٹ ویزوں پر یا پہلی دفعہ بیرون ممالک جانے والوں کی امیگریشن کلیرینس کے دوران سخت پروفائلنگ کا عمل گزشتہ چند ماہ سے جاری ہے۔

اس دوران سفری دستاویزات یا امیگریشن حکام کو مطمئن نہ کر سکنے والوں کو سخت چھان بین سے گزرنا پڑتا ہے اور مختلف پروازوں سے اکا دکا ایسے مسافروں کو آف لوڈ کرکے مسنگ ڈاکو منٹ مکمل کرنے کا کہا جاتا ہے

تاہم ایسے میں اکثر ایسے مسافر کو بھی ٹکٹ کی مد میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی صورتحال پر سوشل میڈیا پر مخلتف پیجز پر امیگریشن کے اس عمل پر شدید تنقید کی جاریی ہے۔

ایف آئی اے نے ایسے تمام تاثر و اطلاعات کو رد کیا ہے ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون کیپٹن ر علی ضیا نے ویڈو بیان میں تفصیلی وضاحت کی ہے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کیپٹن ر علی ضیا کے مطابق کچھ مخصوص عناصر اے آئی جنریٹیڈ ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ایئرپورٹس پر مسافروں کو بلا وجہ آف لوڈ کیا جا رہا ہے اور بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، حالانکہ اس تمام پراپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

کیپٹن علی ضیا کا کہنا تھا کہ جو مسافر کارآمد ویزے اور مکمل سفری دستاویزات کے ساتھ جا رہے ہوتے ہیں، انہیں نہ روکا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے، بلکہ ایف آئی اے کا عملہ سہولیات فراہم کرتا ہے اور عزت کے ساتھ روانہ کرتا ہے۔

انھوں نے ایئرپورٹس پر حقیقی چیلنج انسانی سمگلروں کا شکار ہونے والے وہ لوگ ہیں جو غلط معلومات یا لالچ میں آکر ٹرانزٹ کے بہانے روٹ تبدیل کرتے ہیں، یا سفر کے دوران اہداف بدل دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ڈیپورٹیشن ہوتی ہے۔

کیپٹن علی ضیا کا مزید کہناتھاکہ انسانی سمگلنگ کے باعث نہ صرف پاکستانی شہری جانوں کے ضیاع اور تاوان کے واقعات کا شکار ہوئے بلکہ اس سے پاکستان کی ساکھ اور گرین پاسپورٹ کی قدر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے، جس کی وجہ سے کئی ممالک نے پاکستانیوں کے لیے ویزا پالیسی سخت کردی۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے امیگریشن صرف انہی مسافروں کو روکتی ہے جن کے دستاویزات میں کوئی کمی ہو یا جن کے ویزوں اور ورک پرمٹس پر شکوک پائے جائیں، خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں متعلقہ ممالک میں کمپنیوں کا وجود ہی نہیں ہوتا یا انسانی سمگلنگ کے خدشات پائے جائیں۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے واضح کیا کہ آف لوڈنگ کا فیصلہ مکمل تحقیق اور پروفائلنگ کے بعد کیا جاتا ہے، اس لیے مسافروں کو افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ہزاروں پاکستانی بیرون ملک جاتے اور آتے ہیں۔ جانے والوں کو اللّٰہ حافظ اور آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

اگر کسی کو کوئی شکایت یا معلومات درکار ہوں تو ایف آئی اے کے زونل دفاتر یا ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن سے براہ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

کیپٹن علی ضیا نے تنبیہ کی کہ کوئی بھی شخص امیگریشن کلیرنس کے نام پر کسی کو رقم نہ دے، کیونکہ اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا مقصد صرف مالی فائدہ اٹھانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جدہ: پاکستان انوسٹر فورم کے نومنتخب صدر چوہدری شفقت محمود دھول کی جدہ واپسی ؛ والہانہ استقبال ممبران اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کی مبارکبادوں کا سلسلہ جاری
  • ایف آئی اے کی کارروائی، غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 3 ملزمان گرفتار
  • کراچی: ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا
  • ناظم آباد میں کے الیکٹرک کاعملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کربجلی چوری کے خلاف کارروائی کررہاہے
  • پٹیل پاڑہ میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی، والد زیر حراست
  • سکھرپولیس کا ٹارگٹڈآپریشن، صدام لاشاری کے قتل میں ملوث 5افراد گرفتار
  • بھارت میں دوسری شادی پر پابندی، قانون کی خلاف ورزی پر 10 سال قید اور بھاری جرمانہ
  • حیدرآبادپولیس کے خلاف میرفتح کالونی کے رہائشیوں کا احتجاجی مظاہرہ
  • ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 22 دہشتگرد ہلاک
  • سوشل میڈیا پر من گھڑت پروپیگنڈا، صوبائی منافرت پھلانے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کا آغاز