رانا محمد اقبال کو قانون اور منشاء اللہ بٹ کو محنت کے قلمدان تفویض
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) پنجاب حکومت نے کابینہ میں محکموں کی نئی تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری سے 2 وزراء کو اہم قلمدان تفویض کیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق رانا محمد اقبال خان (ایم پی اے PP-184) کو محکمہ قانون جبکہ خواجہ محمد منشاء اللہ بٹ (ایم پی اے PP-47) کو محکمہ محنت و انسانی وسائل کا قلمدان سونپا گیا ہے۔یہ نوٹیفکیشن
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی جانب سے گورنر پنجاب کے احکامات پر جاری کیا گیا۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس نوٹیفکیشن کی کاپیاں تمام متعلقہ محکموں، صوبائی وزراء، ڈویژنل اور ڈپٹی کمشنرز سمیت اعلیٰ سرکاری حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ صوبائی انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کیلیے کیا گیا ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی جیل سے ہی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے خواہاں ہیں: رانا ثناء اللہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت کو بانی پاکستان تحریک انصاف سے کوئی خوف نہیں، تاہم جیل میں ملاقات اور اس کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے قانون کی پابندی لازم ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہئے، مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ طویل ملاقاتوں کے بعد گھنٹوں پر مشتمل پریس کانفرنسیں نہ کی جائیں اور نہ ہی جلاؤ گھیراؤ یا اسلام آباد کی جانب مارچ جیسے بیانات دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص جیل میں بیٹھ کر باہر تحریک چلائے۔ ملاقات کا مقصد سیاسی شور مچانا نہیں ہونا چاہئے، عدالت نے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے دو نکات واضح کیے تھے: ملاقات ہوسکتی ہے مگر اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومت عوام کو بتائے گی کہ مذاکرات کے لیے ہر راستہ اختیار کیا گیا، لیکن بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو احتجاج کی کال دی تھی اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال کی طرح ممکنہ احتجاج کی تیاری کی جا رہی تھی۔
انہوں نے نواز شریف کی سابقہ بیرونِ ملک روانگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جیل توڑ کر باہر نہیں گئے تھے، انہیں اس وقت کی کابینہ نے اجازت دی تھی۔‘‘
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں، قانون کے مطابق ملاقات ہونی چاہئے، تاہم سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اسی تناظر میں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی طرزعمل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر اتنی محبت ہے تو مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرنی چاہئے۔