اگر کوئی آپریشن ہورہا ہو تو کوئی صوبہ یا شخص آپریشن نہیں روک سکتا، بانی پی ٹی آئی کے بھاشن سے فرق نہیں پڑے گا، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشیر وزیراعظم راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آپریشن ہورہا ہو تو کوئی صوبہ یا شخص آپریشن نہیں روک سکتا۔ بانی پی ٹی آئی اپنا بھاشن دیتے رہیں اس سے فرق نہیں پڑے گا۔
پروگرام "سماء ڈیبیٹ" میں گفتگو کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کوبھارت کی مکمل تائید اور سپورٹ حاصل ہے، جب تک دہشتگردوں کا قلع قمع نہ ہویہ جنگ جاری رہے۔راناثنااللہ نے کہا کہ کوئی صوبہ یا وزیراعلیٰ کسی ملک سے براہ راست بات نہیں کرسکتا، ان کو افغانستان سے بات چیت کی اجازت نہیں دی جائے گی، سہیل آفریدی سے خیبرپختونخوا کی صورتحال نہیں سنبھالی جائےگی، علی امین گنڈاپور کو اسلیے ہٹایاگیا کیونکہ وہ پارٹی کی توقعات پوری نہیں کرسکے۔
کاہنہ میں 18 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، حنا پرویز بٹ کا متاثرہ لڑکی کے گھر کا دورہ، چاروں ملزمان گرفتار
ان کا مزید کہنا تھا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہوں گے یا نہیں کچھ نہیں کہاجاسکتا، اپوزیشن جماعتیں بھی متحرک ہوگئی ہیں، 8 سے 10 کا نمبر چل رہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں، اگر کچھ کرنا ہو تووہ بتاکرتونہیں کیا جائےگا۔ صوبے میں پوری اپوزیشن ساتھ ملےگی تو پھر صورتحال بن سکے گی۔راناثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے سیاست نہیں کررہے،ہیجان پیدا کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کی تشدد اور غیرجمہوری رویوں پر مشتمل سیاست ہے، ملک میں آئینی اورجمہوری حکومت موجود ہے، پی ٹی آئی والے حکومت کےساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں صحت، تعمیر وترقی،سمیت دیگرعوامی نوعیت کے مطالبات تھے، وزیراعظم نےعوامی مفادات سےمتعلق مطالبات کی فہرست لےلی، مہاجرین کی سیٹوں کامعاملہ آئینی تھا، مہاجرین کی 6سیٹوں پر ایک 6رکنی کمیٹی پر اتفاق ہوا ہے۔
ملازمت سے استعفیٰ دے کر وکالت میں آنا بڑا اور مشکل فیصلہ تھا، آمدنی شروع ہونے میں سالوں لگتے ہیں، وقت کیساتھ ساتھ کام میں بہتری آتی گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم