پاکستان نے افغان قوم کی ہر مشکل میں مدد کی، جواب میں کبھی خیر نہیں ملی، سابق وفاقی وزیر سعد رفیق WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )سابق وفاقی وزیر خواجہ سعید رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان قوم کی ہر مشکل مرحلے پر دینی بھائی اور ہمسایہ جان کر مدد کی لیکن بد قسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمیں جواب میں خیر نہیں ملی۔اپنی ٹوئٹ میں خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھاکہ جنرل مشرف اور اس کے چند بزدل ساتھیوں کی افغانستان پر امریکی قبضے کے جرم میں شرمناک اعانت کو کبھی پاکستانی قوم کی رائی برابر حمایت حاصل نہیں تھی، وہ ہمیشہ پاکستانیوں کی نفرت کا شکار رہے۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں افغان مہاجرین دہائیوں تک پاکستان میں بسے اور لاکھوں آج بھی یہیں کاروبار زندگی میں مصروف ہیں، پاکستان کی موجودہ اور سابقہ سیاسی و فوجی قیادتوں نے بارہا موجودہ افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کی سرپرستی نہ کرنے اور پاکستان پر دہشت گرد حملوں کیلئے انھیں افغان سرزمین کو بطور لانچنگ پیڈ استعمال کرنے سے روکے جانے کی درخواست کی۔ان کا کہنا تھاکہ امارات اسلامی افغانستان کو پاکستان میں حملے اور تخریب کاری روکنے کیلئے اپنا اثر استعمال کرنے کیلئے کہا گیا، پاکستان پر بار بار حملے کرنیوالے خوارج کو پناہ نہ دینے اور پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن ہماری کوئی بات نہیں مانی گئی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے پاس اپنی سکیورٹی فورسز اور عوام پر افغانستان سے حملہ آور دہشت گرد گروپوں کو روکنے کیلئے اب ڈائریکٹ ایکشن کے سوا کیا راستہ باقی بچا ہے؟۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھاکہ امارات اسلامی تمام بین الاقوامی قوانین کے تحت افغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے سے روکنے کی پابند ہے، بہتر ہو گا کہ ہم پر جوابی حملے کرنے اور ایک نئی جنگ چھیڑنے کے بجائے فساد کی جڑ کو اپنی سرزمین سے اکھاڑ پھینکیں یا ان فسادیوں کو اپنی جنت میں بسا لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ سے قطعا لڑنا نہیں چاہتے، یاد رکھیے کہ ہم امریکا، برطانیہ یا روس نہیں ہیں، ہم ہزاروں میل دور سے نہیں آئے، ہمیں آپ کی سرزمین کے ایک انچ پر قبضہ نہیں کرنا لیکن اپنی سرزمین پر ہونے والے حملے ہر حال میں روکنے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کبھی نہ بھولیں اہل پاکستان افغان عوام کی خوشحالی سلامتی، خود مختاری اور ترقی کے حامی ہیں، ہمارے تمام سیاسی و عسکری ادارے افغانستان کو امن و استحکام کا گہوارہ دیکھنا چاھتے ہیں لیکن جواب میں ایسی ہی گرمجوشی درکار ہے، جئیں اور جینے دیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتحریک تحفظ آئین پاکستان کا خارجی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا خارجی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ امن چاہتے ہیں لیکن پاکستان کی سالمیت یا شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعلی پنجاب مریم نواز پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائیگا ، وزیراعظم خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلی کا انتخاب کل کیا جائے گا، صوبائی اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے طلب کراچی سمیت سندھ بھر میں دفعہ 144نافذ، احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی عائد،نوٹیفکیشن جاری وزیراعلی کا انتخاب،پی ٹی آئی نے ن لیگ سے تعاون مانگ لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جواب میں سعد رفیق کا کہنا قوم کی

پڑھیں:

افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ویب ڈیسک: 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو، کہا 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ ْان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے،رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔

طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈ پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے، بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے۔

اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار

پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اسکے برعکس ،افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہےجو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔

اب ہر شہری کا موبائل فون کیمرہ سیف سٹی کا کیمرہ بن سکے گا  

ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسکی سہولت کاری فتنہ آل خوارج کرتے ہیں، اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہےتو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں کس نے روکنا ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں، افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے۔

ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم

وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے انکے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے توپاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔

فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟

یوم یکجہتی فلسطین: صدر مملکت اور وزیراعظم نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنےکا عزم دہرادیا

‏SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے، افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقت Non State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں۔

پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا، افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے، خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہمارے لئے اچھے یا برے دہشتگرد میں کوئی تفریق نہیں، ہمارے لئے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا، ہمیشہ حق باطل پے غالب آتا ہے، ہم حق پر ہیں اور حق ہمیشہ فتحیاب ہوتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے عمل کے تحت 2024 میں 366,704 جبکہ 2025 میں 971,604 افراد کو واپس بھیجا جاچکا ہے،صرف رواں ماہ یعنی نومبر کے دوران 239,574 افراد کو واپس بھیجا گیا، ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنےوالی قیادت کی اجارہ داری ہے، انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے، جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں, 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس-400کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے horror فلم بن جائے گی۔

سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں،کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا، ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں، دہشتگردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔

اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور implementation کمیٹیاں بنائی گئی ہیں،ایرانی ڈیزل کی سمگلنگ غیر قانونی سپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے، ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی اور ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی۔، یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آ چکی ہے۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ایران سے سمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور BYC کو جاتی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے جو کہ بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے، بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں،اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جسکے بہت دورس نتائج ہیں، ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا۔ 

متعلقہ مضامین

  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • نو مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، ملزمان کی فرانزک تصدیق کیلئے درخواست دائر
  • امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمے دار افغان حکومت ہے، پاکستان
  • سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس
  • پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا  
  • افغان سرزمین سے تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملہ، پاکستان کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار
  • پاکستان نے چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا، افغان سرزمین کا دہشت گردی کیلئے استعمال تشویشناک قرار
  • حکومت کی نیٹ میٹرنگ قوانین میں ترمیم کی تیاری
  • بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑ بھپکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی: مراد علی شاہ
  • بھارتی وزیر دفاع نے کبھی سندھو کا پانی نہیں پیا اس لیے دماغ خراب ہے، وزیراعلیٰ سندھ