ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں سلاٹرہائوس بنانے کا منصوبہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اکتوبر2025ء) ایل ڈی اے کی جانب سے ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں سلاٹر ہائوس بنانے کا منصوبہ منظور کر لیا گیا۔ سلاٹرہائوس بنانے کے منصوبے میں 1 ارب 86 کروڑ سے زائد لاگت آئے گی، گندے نالے کو ڈھانپ کر ٹرانسپورٹ یارڈ بنایا جائے گا جبکہ سلاٹرہائوس میں جدید طریقے سے مینول سلاٹرنگ کی جائے گی، اس سلسلے میں ایل ڈی اے انجینئرنگ ونگ نے منصوبے کا جامع پلان بھی تیار کر لیا ہے ۔
(جاری ہے)
ترجمان ایل ڈی اے کا کہنا ہے کہ ایل ڈی اے اس سے قبل ٹولنٹن مارکیٹ کا فساڈ اپ گریڈ کر چکاہے، نئے منظور شدہ پلان میں نالہ کور کر کے پک اینڈ ڈراپ لین اور پارکنگ بنائی جائے گی، جدید سلاٹرہائوس مینول اور حفظان صحت کے عین مطابق ہو گا تاہم شہر میں معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔سلاٹر ہائوس میں جانوروں کی ٹرانسپورٹیشن سے سلاٹرنگ تک کی سہولت ہو گی جبکہ ایل ڈی اے سلاٹر ہائوس بنا کر ٹولنٹن مارکیٹ کو مکمل اپ گریڈ کر دے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایل ڈی اے
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔