ہم تیار ہیں، آپ بھی تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کی ایران کو امن معاہدہ کرنے کی ترغیب
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور اگر یہ ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : ’یہ آٹھویں جنگ ہوگی جسے حل کروں گا‘، صدر ٹرمپ کا پاک افغان کشیدگی ختم کرانے کا عزم
تل ابیب میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے پیر کو خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے دونوں طرف سے یہ حملے برداشت کیے اور اگر ہم ان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کیا آپ اس سے خوش ہوں گے؟ کیا یہ اچھا نہیں ہوگا؟ مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی ایسا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ امن معاہدہ ہونے کا انحصار تہران کی جانب ہے جب آپ تیار ہوں، ہم بھی تیار ہیں۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر سابق صدر باراک اوباما کے دور میں کیے گئے معاہدے سے امریکا کے انخلا کا دفاع بھی کیا جسے اسرائیل نے ایران کے خلاف سخت مؤقف سمجھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کیا اور مجھے اس پر فخر ہے۔
مزید پڑھیے: ’صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں پاکستان نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے‘
تاہم انہوں نے کہا کہ باوجود اس کے کہ ایران کا حکومتی نظام مشرق وسطیٰ میں بڑی خونریزی کا ذمہ دار ہے امریکا نے دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے مزید 2 شہروں میں ‘قوت استعمال کرنے کی اجازت’ کیساتھ فوج تعینات کردی
انہوں نے واضح کیا کہ نہ امریکا اور نہ ہی اسرائیل ایران کے عوام کے خلاف دشمنی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا امریکی صدر ٹرمپ ایران ایران امریکا معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا امریکی صدر ٹرمپ ایران ایران امریکا معاہدہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن معاہدہ چاہتے ہیں ایران کے انہوں نے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز