بھارت خطے میں بدامنی پھیلانے کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے: شیری رحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ بھارت خطے میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کر رہا ہے، بھارتی پشت پناہی سے خارجیوں کی فائرنگ کا عالمی برادری کو بھی نوٹس لینا چاہیے۔
شیری رحمٰن نے افغانستان کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاک سر زمین کے خلاف کسی طرز کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی، پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، میں اپنی سیکیورٹی فورسز کو دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنانے پر خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاک فوج کی حکمت عملی قابل ستائش ہے، پاک فوج نے افغان چیک پوسٹس تباہ کر کے خارجی دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچایا، پاکستان کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
شیری رحمان نے کہا کہ جی سی سی ممالک پر حملہ کر کے اسرائیل نے ریڈ لائن کراس کی، اسرائیل نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی ماری ہے، اسرائیل نے فلسطینیوں کی جانوں کو کچھ نہیں سمجھا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ قوم اپنی افواج کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے، ہماری سرحدوں کی حفاظت پر مامور جوان قوم کا فخر ہیں، ان جوانوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی سرزمین پر امن و سلامتی کی خاطر ہر محاذ پر مضبوطی سے کھڑے رہنا ہے، قوم متحد ہے، کسی بھی دہشت گرد حملے یا سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ بھارت افغانستان کے ذریعے دہشتگردی سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے، پاکستان کسی ملک کے خلاف نہیں لیکن اپنے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور افواج نے ہر بار دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، پاکستانی عوام اور افواج اب بھی ایک آواز ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسرائیل نے نے کہا کہ ن نے کہا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔