پاکستان نے افغان قوم کی ہر مشکل میں مدد کی، جواب میں کبھی خیر نہیں ملی، سعد رفیق
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
اپنی ٹوئٹ میں سابق وفاقی وزیر اور لیگی رہنما کا کہنا تھاکہ جنرل مشرف اور اس کے چند بزدل ساتھیوں کی افغانستان پر امریکی قبضے کے جُرم میں شرمناک اعانت کو کبھی پاکستانی قوم کی رائی برابر حمایت حاصل نہیں تھی، وہ ہمیشہ پاکستانیوں کی نفرت کا شکار رہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعید رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان قوم کی ہر مشکل مرحلے پر دینی بھائی اور ہمسایہ جان کر مدد کی لیکن بد قسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہمیں جواب میں خیر نہیں ملی۔ اپنی ٹوئٹ میں خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھاکہ جنرل مشرف اور اس کے چند بزدل ساتھیوں کی افغانستان پر امریکی قبضے کے جُرم میں شرمناک اعانت کو کبھی پاکستانی قوم کی رائی برابر حمایت حاصل نہیں تھی، وہ ہمیشہ پاکستانیوں کی نفرت کا شکار رہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افغان مہاجرین دہائیوں تک پاکستان میں بسے اور لاکھوں آج بھی یہیں کاروبار زندگی میں مصروف ہیں، پاکستان کی موجودہ اور سابقہ سیاسی و فوجی قیادتوں نے بارہا موجودہ افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کی سرپرستی نہ کرنے اور پاکستان پر دہشت گرد حملوں کیلئے انھیں افغان سرزمین کو بطور لانچنگ پیڈ استعمال کرنے سے روکے جانے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امارات اسلامی افغانستان کو پاکستان میں حملے اور تخریب کاری روکنے کیلئے اپنا اثر استعمال کرنے کیلئے کہا گیا، پاکستان پر بار بار حملے کرنیوالے خوارج کو پناہ نہ دینے اور پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن ہماری کوئی بات نہیں مانی گئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے پاس اپنی سکیورٹی فورسز اور عوام پر افغانستان سے حملہ آور دہشت گرد گروپوں کو روکنے کیلئے اب ڈائریکٹ ایکشن کے سوا کیا راستہ باقی بچا ہے؟ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھاکہ امارات اسلامی تمام بین الاقوامی قوانین کے تحت افغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کرنے سے روکنے کی پابند ہے، بہتر ہو گا کہ ہم پر جوابی حملے کرنے اور ایک نئی جنگ چھیڑنے کے بجائے فساد کی جڑ کو اپنی سرزمین سے اکھاڑ پھینکیں یا ان فسادیوں کو اپنی جنت میں بسا لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ سے قطعاً لڑنا نہیں چاہتے، یاد رکھیے کہ ہم امریکا، برطانیہ یا روس نہیں ہیں، ہم ہزاروں میل دور سے نہیں آئے، ہمیں آپ کی سرزمین کے ایک انچ پر قبضہ نہیں کرنا لیکن اپنی سرزمین پر ہونیوالے حملے ہر حال میں روکنے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کبھی نہ بھولیں اہل پاکستان افغان عوام کی خوشحالی سلامتی، خود مختاری اور ترقی کے حامی ہیں، ہمارے تمام سیاسی و عسکری ادارے افغانستان کو امن و استحکام کا گہوارہ دیکھنا چاھتے ہیں لیکن جواب میں ایسی ہی گرمجوشی درکار ہے، جئیں اور جینے دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔