شہریوں کی سہولت کیلیے جلد از جلد الیکٹرک ٹیکسی سروس شروع کرنا چاہتے ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد الیکٹرک ٹیکسی سروس شروع کی جائے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولت میسر آئے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے الیکٹرک کار ساز کمپنی کے وفد کی ملاقات ہوئی۔ صوبائی وزیر برائے محنت و سماجی تحفظ سعید غنی بھی اجلاس میں شریک تھے۔
وفد نے اپنی تیار کردہ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے ماڈلز، مقامی سطح پر اسمبلنگ اور چارجنگ انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد کی جانب سے سندھ حکومت کے ساتھ شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور حکومت سندھ عوام کے لیے جدید، ماحول دوست اور کم لاگت سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں سے ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی ہوگی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں سے متعلق نجی شعبے کے ساتھ مل کر جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے، الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ یہ صنعتی شعبے میں جدت اور سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھولے گی۔
سندھ کے سینیر وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور الیکٹرک وہیکلز اس سمت ایک اہم قدم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔