Juraat:
2025-11-30@08:22:07 GMT

بھوکے بچے

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

بھوکے بچے

ایک نئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک نے صحت کے شعبے میں کچھ پیش رفت کی ہے، لیکن سروے رپورٹ سے قطع نظر اب بھی زمینی حقیقت یہی ہے کہ ہمارے یہاں بیشتر افراد صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں سرکاری ہسپتال کے بیشتر ڈاکٹر اپنے فرائض صحیح طورپر انجام نہیں دیتے جس کی وجہ سے مریضوں کو گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرنا ہوتا جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں سے صحت کی سہولت حاصل کرنے کیلئے انھیں اپنی ایک دن اور بعض اوقات کئی کئی دن کی دیہاڑی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور اس طرح دوا کے حصول کی کوشش میں ان کے گھر کا چولھا نہیں جل پاتا،

دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت اب بھی تمامبچوں کوپیٹ بھرنے کے لیے کافی خوراک کی فراہمی کو بھی یقینی نہیں بناسکی ہے اور حکومت کی موجودہ پالیسیوں سے ظاہرہوتاہے کہ اگلے چند برسوں کے دوران بھی ملک کے تمام بچوں کو ان کی نشوونما کیلئے لازمی خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کیلئے ممکن نہیں ہوسکے گا۔ اسی طرح، نئے اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کیے جانے کے باوجود تعلیمی نتائج میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

پاکستان پینل ہاؤس ہولڈ سروے (PPHS) 2024 کی سب سے تشویشناک بات غذائی عدم تحفظ کا بحران ہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آج بھی ملک میں صورت حال یہ ہے کہ ہر 5میں سے صرف ایک خاندان یعنی صرف 20 فیصد خاندان ہی ایسے ہیں جو اپنی پسند کے مطابق کھانا باقاعدگی سے کھا سکتے ہیں، جبکہ 30 فیصد خاندان کبھی کبھار دن میں 3 وقت کا کھانا نہیں کھا پاتے۔ سروے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ گھرانوں نے مہنگائی کو اپنی سب سے بڑی پریشانی قرار دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے زیادہ تر شہری کس قدر غیر مستحکم حالات سے گزر رہے ہیں۔ادھر تعلیم کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ ہزاروں بچے غربت کی وجہ سے اسکول چھوڑ رہے ہیں، اور جو بچے اسکول میں رہ بھی جاتے ہیں وہ بھی بہت کم سیکھ پاتے ہیں۔ تیسری سے آٹھویں جماعت تک کے ایک تہائی سے زیادہ طلبہ دوسری جماعت کے درجے کی تقسیم کا سوال حل نہیں کر سکتے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست نے اپنے بچوں کو کس طرح نظرانداز کیا ہے۔ ساتھ ہی، مزدوروں کی منڈی بھی کسی نہ کسی طرح تعلیم مکمل کرلینے والے نوجوانوں کے لیے کوئی بہتر مواقع
فراہم نہیں کرتی جس کی وجہ سے معاشی ترقی کا خواب زیادہ تر نوجوانوں کے لیے ایک فریب بن چکا ہے، لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شمولیت
میں بھی نہایت معمولی اضافہ ہوا ہے، اورزیادہ تر خواتین تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہونے کے باوجود زیادہ تر کم قدر والے کاموں تک محدود ہیں۔ مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے بچوں میں بڑھوتری (stunting) میں کمی آئی ہے۔ اس سروے رپورٹ سے یہ بات ایک دفعہ کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں میں پالیسی سازی کی صلاحیتیں نہ ہونے کے برابر ہیں یا وہ انھیں بروئے کار لانا نہیں چاہتے کیونکہ اس طرح کی پالیسیوں کیلئے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر اس طرح کی پالسیوں کیلئے فنڈز فراہم کردئے جائیں تو حکمرانوں اور ان کے معاونین کی مراعات اور عیش وآرام اور غیرملکی سیر سپاٹوں کیلئے فنڈز کہاں سے آئیں گے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حکومت کی ہر کامیابی کسی نہ کسی ناکامی سے داغدار نظر آتی ہے کیونکہ ملک کا کوئی بھی ادارہ اپنے محدود دائرے میں کام کرنے کو تیار نظر نہیں آتا ہر ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کرنے پر مصر ہے۔ سروے رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ اس وقت ملک کے 50 فیصد سے زیادہ بچے بھوکے اسکول جا رہے ہیں،یہ صورت حال ہمارے حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ،حکمرانوں کو چاہئے اس صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے ایک ایسی مربوط حکمت ِ عملی تشکیل دیں جس کے ذریعہ معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کی وجہ سے زیادہ تر

پڑھیں:

افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے-

25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ باررڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے  گمراہ  کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں،  پاک افعان بارڈ پر  پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے، پنجاب اور  سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس ،افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں- 

اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہے جو  گورننس  کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسکی سہولت کاری فتنتہ آلخوارج کرتے ہیں- 

اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہےتو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں  کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ  ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں-

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں،  افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں  کی قیادت موجود ہے- 

انہوں نے کہا کہ وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے انکے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں۔اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے توپاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ 

پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے، فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے،  یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟ 

‏انہوں نے کہا کہ SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے- 

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقت Non State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں- 

پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری  سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا- 

افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں، ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری ہے، انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے۔ 

جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس-400کی  بیٹریاں  تباہ ہو جائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے horror فلم بن جائے گی، سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں- 

کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا،  ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ  بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت  اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں، 

دہشتگردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا  اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔

اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور implementation کمیٹیاں بنائی گئی ہیں،  ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ غیر قانونی اسپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے- 

ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی اور ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی، یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آ چکی ہے، ایران سے سمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور BYC کو جاتی ہے- 

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس  کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے جو کہ  بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے، بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں۔اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جسکے بہت دورس نتائج ہیں، ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا-

 

متعلقہ مضامین

  • معیشت میں بہتری کیلئے بہتر طرز حکمرانی کی ضرورت
  • فوج غزہ بھیجنے کیلئے تیار، حماس کو کمزور کرنے کا حصہ نہیں بنیں گے: اسحاق ڈار
  • افغان طالبان  دہشت گردوں کے سہولت  کار : ڈی  جی آئی ایس پی آر 
  • اسرائیل، رفح بحران کے حل کیلئے ثالثوں کو جواب نہیں دے رہا، حماس
  • اسرائیلی جارحیت علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے، جولانی رژیم
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • اکثر فرانسیسیوں کی رائے ہے کہ روس ان کے ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، سروے
  • طالبان خطے اور دنیا کیلئے مسئلہ بن رہے ہیں
  • یاسین ملک کی رہائی کیلئے مشال ملک اور بیٹی کی عوامی رابطہ مہم کا آغاز