Juraat:
2026-07-24@05:08:02 GMT

بھوکے بچے

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

بھوکے بچے

ایک نئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک نے صحت کے شعبے میں کچھ پیش رفت کی ہے، لیکن سروے رپورٹ سے قطع نظر اب بھی زمینی حقیقت یہی ہے کہ ہمارے یہاں بیشتر افراد صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں سرکاری ہسپتال کے بیشتر ڈاکٹر اپنے فرائض صحیح طورپر انجام نہیں دیتے جس کی وجہ سے مریضوں کو گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرنا ہوتا جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں سے صحت کی سہولت حاصل کرنے کیلئے انھیں اپنی ایک دن اور بعض اوقات کئی کئی دن کی دیہاڑی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور اس طرح دوا کے حصول کی کوشش میں ان کے گھر کا چولھا نہیں جل پاتا،

دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت اب بھی تمامبچوں کوپیٹ بھرنے کے لیے کافی خوراک کی فراہمی کو بھی یقینی نہیں بناسکی ہے اور حکومت کی موجودہ پالیسیوں سے ظاہرہوتاہے کہ اگلے چند برسوں کے دوران بھی ملک کے تمام بچوں کو ان کی نشوونما کیلئے لازمی خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کیلئے ممکن نہیں ہوسکے گا۔ اسی طرح، نئے اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کیے جانے کے باوجود تعلیمی نتائج میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

پاکستان پینل ہاؤس ہولڈ سروے (PPHS) 2024 کی سب سے تشویشناک بات غذائی عدم تحفظ کا بحران ہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آج بھی ملک میں صورت حال یہ ہے کہ ہر 5میں سے صرف ایک خاندان یعنی صرف 20 فیصد خاندان ہی ایسے ہیں جو اپنی پسند کے مطابق کھانا باقاعدگی سے کھا سکتے ہیں، جبکہ 30 فیصد خاندان کبھی کبھار دن میں 3 وقت کا کھانا نہیں کھا پاتے۔ سروے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ گھرانوں نے مہنگائی کو اپنی سب سے بڑی پریشانی قرار دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے زیادہ تر شہری کس قدر غیر مستحکم حالات سے گزر رہے ہیں۔ادھر تعلیم کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ ہزاروں بچے غربت کی وجہ سے اسکول چھوڑ رہے ہیں، اور جو بچے اسکول میں رہ بھی جاتے ہیں وہ بھی بہت کم سیکھ پاتے ہیں۔ تیسری سے آٹھویں جماعت تک کے ایک تہائی سے زیادہ طلبہ دوسری جماعت کے درجے کی تقسیم کا سوال حل نہیں کر سکتے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست نے اپنے بچوں کو کس طرح نظرانداز کیا ہے۔ ساتھ ہی، مزدوروں کی منڈی بھی کسی نہ کسی طرح تعلیم مکمل کرلینے والے نوجوانوں کے لیے کوئی بہتر مواقع
فراہم نہیں کرتی جس کی وجہ سے معاشی ترقی کا خواب زیادہ تر نوجوانوں کے لیے ایک فریب بن چکا ہے، لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شمولیت
میں بھی نہایت معمولی اضافہ ہوا ہے، اورزیادہ تر خواتین تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہونے کے باوجود زیادہ تر کم قدر والے کاموں تک محدود ہیں۔ مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے بچوں میں بڑھوتری (stunting) میں کمی آئی ہے۔ اس سروے رپورٹ سے یہ بات ایک دفعہ کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں میں پالیسی سازی کی صلاحیتیں نہ ہونے کے برابر ہیں یا وہ انھیں بروئے کار لانا نہیں چاہتے کیونکہ اس طرح کی پالیسیوں کیلئے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر اس طرح کی پالسیوں کیلئے فنڈز فراہم کردئے جائیں تو حکمرانوں اور ان کے معاونین کی مراعات اور عیش وآرام اور غیرملکی سیر سپاٹوں کیلئے فنڈز کہاں سے آئیں گے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حکومت کی ہر کامیابی کسی نہ کسی ناکامی سے داغدار نظر آتی ہے کیونکہ ملک کا کوئی بھی ادارہ اپنے محدود دائرے میں کام کرنے کو تیار نظر نہیں آتا ہر ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کرنے پر مصر ہے۔ سروے رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ اس وقت ملک کے 50 فیصد سے زیادہ بچے بھوکے اسکول جا رہے ہیں،یہ صورت حال ہمارے حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ،حکمرانوں کو چاہئے اس صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے ایک ایسی مربوط حکمت ِ عملی تشکیل دیں جس کے ذریعہ معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کی وجہ سے زیادہ تر

پڑھیں:

پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ  سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ  دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار