فوج غزہ بھیجنے کیلئے تیار، حماس کو کمزور کرنے کا حصہ نہیں بنیں گے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شرکت کے لیے فوج بھجوانے کے لیے تیار ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطینی مزاحمتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا حصہ نہیں بنے گا۔
میڈیا سے گفتگو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہئے، ملائیشیا کو بھی آئی ایس ایف کے حماس کو غیر مسلح کرنے کے مجوزہ کردار پر اعتراض ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان غزہ امن فورس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے تاہم اس سے پہلے اس کے ٹی او آرز، مینڈیٹ اور کردار کا واضح طور پر فیصلہ ہونا چاہئے جب تک ان عوامل کے بارے میں طے نہیں کر لیا جاتا تب تک پاکستان کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے غزہ امن معاہدے کا سب سے اہم جزو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا قیام ہے، جس میں بنیادی طور پر مسلمان اکثریتی ممالک کی افواج شامل ہوں گی، فورس کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا، انسانی امداد کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانا اور غزہ میں انتظامی ڈھانچے کے فوری استحکام میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کا دفتر خارجہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان بھی اس فورس کا حصہ بننے کا جائزہ لے رہا ہے تاہم معاملات ابھی ابتدائی مرحلے پر ہیں اور اس بارے میں ابھی کافی کچھ طے ہونا باقی ہے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نے بتایا کہ انڈونیشیا نے بھی فوج غزہ میں بھیجنے کا عندیہ دیا تھا اور پاکستان نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کی تھی، پھر یہ شوشا آیا کہ یہ انرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس حماس کو غیر مسلح کرے گی، ہم اس کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا کام امن کا قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں ہے، وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل سے مشاورت کے بعد اصولی طور پر اعلان کیا ہے کہ ہم فورس دیں گے لیکن جب تک اس کا ٹی او آر اور مینڈیٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک ہمارا فوج بھیجنے کا فیصلہ بھی نہیں ہو سکتا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ان کی خام خیالی ہے کہ چیزیں ٹھیک نہیں ہو سکتیں، ہم فوجی ایکشن کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی ٹھیک نہیں ہے کہ بھائی کے گھر جا کر اور اندر جا کر گھس کر ماریں اور ان عناصر کو نکالیں، نکالنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر ہم انڈیا کو سبق سکھا سکتے ہیں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ پاکستان اسحاق ڈار حماس کو نہیں ہے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔