بانی سے ملاقات کی درخواست، پی ٹی آئی کا کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی: فائل فوٹو
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقات اور اسپتال کے اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے سے متعلق دو درخواستوں پر سماعت میں بانی پی ٹی آئی کا کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور شوکت خانم کینسر اسپتال کے بینک اکاؤنٹ ایمرجنسی بنیادوں پر ڈی فریز کرنے سے متعلق دائر دو درخواستوں کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کا کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، خود اسپانسرڈ قسم کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں،
پراسیکیوشن ٹیم اور عدالت پی ٹی آئی کے وکلاء کا انتظار کرتے رہے، کسی وکیل کے پیش نہ ہونے کے باعث انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے دونوں درخواستوں پر سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور شوکت خانم کینسر اسپتال کے بینک اکاؤنٹ بحال کرنے سے متعلق علیمہ خان اور بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کی جانب سے گزشتہ روز درخواستیں دائر کی گئی تھی۔
پارٹی رہنما کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔
درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فیملی اور پارٹی کو تشویش ہے ملاقات کروائی جائے اور شوکت خانم اسپتال کے بینک اکاؤنٹ فریز ہونے سے لائف سیونگ ڈرگز پورٹ پر پڑی ہیں۔
رقوم کی ادائیگی نہ ہونے سے سیکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
عدالت نے دونوں درخواستوں پر گزشتہ روز ہی فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج کیلئے سماعت مقرر کی تھی، لیکن پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک سمیت کوئی جونیئر وکیل بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، کوئی عدالت میں حاضر نہیں ہوتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عدالت میں پیش نہیں ہوا بانی پی ٹی آئی ئی سے ملاقات سے ملاقات کی پی ٹی ا ئی اسپتال کے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔