پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ 19 اکتوبر کو لانچ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
ترجمان سپارکو کے مطابق پاکستان اپنے پہلے ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (HS-1) کو 19 اکتوبر کو چین سے لانچ کرے گا۔
یہ مشن پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک تاریخی پیش رفت اور قومی خلائی پالیسی و وژن 2047 کا اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
سپارکو کے مطابق ایچ - ایس ون سیٹلائٹ ملک میں زراعت، شہری ترقی، اور ماحولیاتی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ جدید ترین ڈیٹا کیلیبریشن اور درست زراعت (Precision Agriculture) کےلیے جدید سہولیات فراہم کرے گا، جس سے فصلوں کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ سیٹلائٹ سیلابوں، لینڈ سلائیڈز اور دیگر قدرتی آفات کی پیشگوئی میں مددگار ثابت ہوگا، جب کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور ارضیاتی خطرات کی بروقت نگرانی کے لیے بھی نہایت مؤثر کردار ادا کرے گا۔
مزید برآں ایچ - ایس ون ملک میں انفرااسٹرکچر میپنگ اور شہری منصوبہ بندی کےلیے نئی راہیں کھولے گا، جس سے پاکستان سائنسی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔
ترجمان سپارکو کے مطابق پاکستان کا ہائپر اسپیکٹرل مشن نہ صرف خلائی تحقیق بلکہ جدید سائنسی و تکنیکی ایپلی کیشنز کے میدان میں بھی ملک کو عالمی صفِ اول کی فہرست میں لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔