Juraat:
2025-11-30@12:05:07 GMT

اختیارات کا غلط استعمال!

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

اختیارات کا غلط استعمال!

وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ فیصلہ کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک کے بڑے ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرے، ان اداروں کے بورڈ رومز میں شفافیت لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے ملک میں اختیارات سے تجاوز ایک معمول بن چکا ہے اور اب تو صورت حال یہاں تک بگڑچکی ہے کہ کسی افسر کے کمرے کے باہر بیٹھاہوچپراسی بھی صاحب سے ملاقات کیلئے آنے والوں کی جانب مٹھی گرم کئے جانے کی توقع لگائے بیٹھا ہوتا ہے اور وہ اسے حق تصور کرتا ہے اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے انھیں بعض اوقات صاحب بہادر سے ملے بغیر ہی بے نیل ومرام واپس لوٹنا پڑتاہے ، کمرے میں بیٹھے صاحب بہادر اپنے چپراسی کے اس طرز عمل سے ناواقف نہیں ہوتے لیکن وہ اپنے اختیارات کے زعم میں سائل کو پریشان کرنا شاید اپنا پیدائشی حق تصور کرتے ہیں ،یہی نہیں اب تو صورت حال اس حد تک بگڑچکی ہے کہ صاحب بہادر اپنی مرضی سے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ بھی کرلیتے ہیں اور متعلق ادارے جو ایک کلرک کے میڈیکل کے بل کی ادائیگی کیلئے بھی بعض اوقات اعتراضات پر اعتراضات لگاتے رہتے ہیں انھیں اس کی ادائیگی میں تامل سے کام نہیں لیتے ایسے اختیارات کے جائزے کا مطالبہ گزشتہ ماہ اُس وقت سامنے آیا جب سینیٹ کی ایک کمیٹی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے چیئرمین کی غیر معمولی تنخواہ اور مراعات جو مبینہ طور پر 38 کروڑ 10 لاکھ روپے اور دیگر سہولتوں پر مشتمل تھیں پر سوالات اٹھائے۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ دیگر ریگولیٹری اداروں، جن میں اسٹیٹ بینک اور نیپرا شامل ہیں، کے قانونی ڈھانچے بھی ان کے انتظامی سربراہان اور بورڈز کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ بغیر کسی حکومتی یا پارلیمانی نگرانی کے اپنی تنخواہیں اور مراعات خود من مانی طور پر بڑھا سکتے ہیں۔اس صورت حال سے ظاہرہوتاہے کہ ہمارے ملک میں کرپشن ایک ایسا کلچر بن چکا ہے جوان اداروں میں تیزی سے پھل پھول رہاہے جہاں قانون ن میں نرمی ہے اور احتساب کاکوئی موثر طریقہ نہیں ہے۔

یہ رجحان اقتدار کے ایوانوں سے لے کر روزمرہ شہری معاملات تک پھیلا ہوا ہے، اب ہر خود مختار ادارے کا سربراہ جو عام طورپر حکمرانوں یا ان کے چہیتوں کا چہیتا یا بیٹا ،بھتیجا ،داماد یا کوئی اوررشتہ دار ہوتا ہے یہ طے کرتا ہے کہ کس کو رعایت ملے گی، کس کو نظرانداز کیا جائے گا اور کس کو نظر میں آنے کے لیے قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اس برائی کے معمول بن جانے نے میرٹ کو کھوکھلا کر دیا ہے، اور حکمرانی کو ایک تجارتی لین دین میں بدل دیا ہے۔

اگرچہ وزیراعظم کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ بے اعتدالیاں بڑھ جانے کے سبب نہیں کیاہے کیونکہ وزیر اعظم گزشتہ دنوں خود ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں بلاجواز اضافے کی منظوری دے چکے ہیں اور ان کے صاحبزادے اور بعض دوسرے قریبی رشتہ دار خود بھی اس طرح کے من مانے فیصلوں کے ذریعے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے فیصلوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں بلکہ اس وزیر ا عظم نے اس طرح کی کمیٹی مبینہ طورپر آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس میں شفافیت لانے کی شرط پوری کرنے کیلئے کی ہے تاہم ریگولیٹری اداروں اور مقتدر حکام کی من مانیوں کی موجودہ صورت حال میں وزیراعظم کی جانب سے ملک کے بڑے ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ افسران اور عہدیداروں کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کے قیام سے یہ توقع کرنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر روایتی اقربا پروری کے بجائے حقیقی معنوں میں دیانتدار افراد کو اس طرح کی کمیٹی کا رکن بنایاجائے تو اس کمیٹی کے ارکان ایسے خود ساختہ فیصلوں کی قانونی حیثیت اور مناسبیت کا جائزہ لے سکیں گے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سفارشات پیش کریں گے بصورت دیگر اس طرح کی کمیٹی کا قیام کچھ من پسند لوگوں کو نوازنے اور کاغذی خانہ پر ی کے ذریعے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسابقتی اور مارکیٹ کے مطابق تنخواہیں اور مراعات ہی ماہر پیشہ ور افراد کو راغب کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں تاکہ ریگولیٹری ادارے بہتر طور پر کام کر سکیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم یہ دلیل اُس وقت کمزور ہو جاتی ہے جب فیصلے وہی لوگ کریں جو براہِ راست ان سے فائدہ اٹھانے والے ہوں وہ بھی غیر شفاف طریقے سے۔ ان اداروں کی جانب سے بار بار ریگولیٹری ناکامیوں اور عوامی مفاد کے تحفظ، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے میں ناکامی نے اس دلیل کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ چونکہ زیادہ تر ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی مایوس کن ہے، بعض لوگ چاہیں گے کہ حکومت ان قانونی ڈھانچوں میں تبدیلی کرے جو ان کے سربراہوں کو اپنی مراعات خود طے کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ایک غلطی ہوگی۔ اس کے بجائے، کمیٹی کو چاہیے کہ تمام ریگولیٹری اداروں کے قوانین کا ازسرِنو جائزہ لے اور ایسے اقدامات تجویز کرے جن کے ذریعے اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کو ادارے کی کارکردگی اور سخت پارلیمانی نگرانی سے منسلک کیا جا سکے تاکہ احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی، اسے فیصلہ سازی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنی چاہئیں تاکہ عوام کا اعتماد ان اداروں پر بحال ہو۔

پاکستان کے اداروں کو جتنی گہرائی سے کرپشن نے کھوکھلا کیا ہے، شاید ہی کسی اور قوت نے کیا ہو۔ کرپشن نے عوامی خدمت اور ذاتی مفاد کے درمیان لکیر مٹا دی ہے، جس کے باعث ریاست خود اپنی سمت اور مقصد کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین گورننس رپورٹ صاف طور پر یہ کہتی ہے کہ جب تک کلیدی سرکاری اداروں کی قیادت اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر نہیں کی جاتی، اصلاحات کبھی مؤثر انداز میں جڑ نہیں پکڑ سکتیں۔رپورٹ میں دس ایسے سرکاری اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بدعنوانی کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، اور سفارش کی گئی ہے کہ ان میں تقرریاں شفاف اور مسابقتی طریقے سے کی جائیں۔ ان اداروں میں قومی احتساب بیورو (نیب)، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) اور مسابقتی کمیشن شامل ہیں وہ ادارے جنہیں شفافیت اور دیانت داری کی حفاظت کرنی تھی، مگر اب خود اثر و رسوخ کے جال میں الجھ چکے ہیں۔ جب احتساب کے محافظ ہی اپنی ساکھ کھو بیٹھیں، تو نظامِ حکمرانی کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔آئی ایم ایف کی سفارشات کوئی سزا نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ تجاویز ہیں، جو اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔ فنڈ نے سفارش کی ہے کہ انسدادِ کرپشن کے اقدامات پر عوامی رپورٹنگ کی جائے، آڈیٹر جنرل کو زیادہ خودمختاری دی جائے، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو از سرِ نو منظم کیا جائے تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے۔ ان میں سے ہر قدم ایک قومی ضرورت ہے پاکستان کو کمی کسی مشورے کی نہیں بلکہ عزم کی ہے۔ میرٹ پر مبنی تقرریاں محض رسمی اصلاحات نہیں بلکہ وہ لکیر ہیں جو شہریوں کی خدمت کرنے والی حکومت کو خود غرض حکومت سے جدا کرتی ہیں۔ جب تک دیانت داری کو وفاداری پر ترجیح نہیں دی جاتی، کوئی مالی پیکج یا بیرونی آڈٹ اعتماد بحال نہیں کر سکتا۔ اگر ملک واقعی اصلاحات کا خواہاں ہے تو اسے میرٹ کو یقینی بنانا ہوگا -97 نہ کبھی کبھار، نہ مخصوص مواقع پر، بلکہ ہمیشہ۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، گورننس اور احتساب کی تمام باتیں کھوکھلی رہیں گی۔
٭٭٭

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: تنخواہوں اور مراعات میں ریگولیٹری اداروں اختیارات کے آئی ایم ایف کی جانب سے اداروں کی اداروں کے صورت حال ہیں بلکہ ہیں اور ہے اور کے لیے

پڑھیں:

چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں، ہم تو یہ چاہتے ہیں افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، امن ہی واحد راستہ ہے: وزیر خارجہ

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان کے دورے میں افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا تھا کہ انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے لیکن ان پر واضح کردیا کہ چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، امن ہی واحد راستہ ہے، پاکستان نے افغانستان سے کہا ٹی ٹی پی کو پاک افغان بارڈر سے دور لے جائیں، دوسرا یہ ہوسکتا ہے کہ ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کردیں۔

ٹی ڈی سی پی ہیریٹیج تھرو لینز کے زیر اہتمام فوٹوگرافرز کا دورہ قصور 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ  ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے، ماسکو میں ایس سی او سربراہان حکومت کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، ماسکو اجلاس میں پاکستان کی معاشی ترجیحات پر بات کی، پاکستان کا علاقائی روابط، توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مؤقف پیش کیا، صدر پیوٹن نے ماسکو میں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شریک وفود کے سربراہان سے ملاقات کی۔

’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق اسحاق ڈار  نے کہا کہ یورپی یونین کے صدر کے ساتھ بھی ملاقات خوشگوار رہی، برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کی جس میں مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان، دہشت گردی اور جی ایس پی پلس سمیت مختلف امور پر بات ہوئی۔یورپی یونین کے 27 ممالک کو پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے بریفنگ دی، انہیں بتایا جو خبریں ان تک پہنچتی ہیں وہ درست نہیں، یورپی یونین کو ان حقائق سے آگاہ کیا جسے انہوں نے تسلیم کیا، یورپی یونین کو بتادیا کہ افغانستان نے انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، افغانستان کے دورے میں امیر متقی نے کہا تھا کہ انہوں نے چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے لیکن ان پر واضح کردیا کہ چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں، ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، امن ہی واحد راستہ ہے۔

 ڈاکٹر محمود رحمانی عرصۂ دراز سے کانپور میں اندھے پن کے خلاف جہادی بنیادوں پر تحریک چلا رہے ہیں، میرے شانوں پر چادر سجائی اور ایوارڈ پیش کیا

وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ پاکستان نے افغانستان سے کہا ٹی ٹی پی کو پاک افغان بارڈر سے دور لے جائیں، دوسرا یہ ہوسکتا ہے کہ ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کردیں، ان سے کہا افغانستان اپنی سرزمین کے پاکستان میں دہشت گردی کے استعمال سے روکے۔ اپنے دورۂ کابل کے بعد افغانستان سے جو وعدے کیے پاکستان نے پورے کیے، پاکستان نے اچھی نیت پر مبنی اقدامات کیے جس کو افغانستان نے بھی مانا لیکن افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کے حوالے سے وعدے وفا نہ ہوئے اور دہشتگردی کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں، ہم تو یہ چاہتے ہیں افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، امن ہی واحد راستہ ہے: وزیر خارجہ
  • یو اے اِی سے متعلق کمیٹی کا بیان پرانے ڈیٹا پر مبنی ہوسکتا ہے، ترجمان دفتر خارجہ
  • پاکستانیوں کو امارات کے ویزے نہ ملنے سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی
  • ایف آئی اے کے اختیارات میں اضافہ، ویزا کے باوجود مسافروں کی جانچ پڑتال لازمی
  • شگفتہ اعجاز نے وزن کم کرنے سے متعلق خاموشی توڑ دی
  • یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے نہیں دے رہا‘ حکام وزارت داخلہ کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
  • کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
  • متحد عرب امارات پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کررہا:وزارت داخلہ کی سینیٹ کمیٹی کو آگاہی
  • چند لوگ یو اے ای جا کر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں اس لیے پاکستانیوں کوویزے جاری نہیں کیے جا رہے، وزارتِ داخلہ نے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کردیا