9 مئی مقدمے میں شاہ محمود قریشی کی بریت لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
لاہور:
9 مئی کے مقدمے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بریت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پراسیکیوشن نے پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیل دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس بری کیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے شاہ محمود قریشی کے خلاف حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا ۔ عدالت سے استدعا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی بریت کو کالعدم قرار دیا جائے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی کی بریت
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ کا اسموگ تدارک کیس میں جامعہ پنجاب کی انسپیکشن اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ تدارک سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جامعہ پنجاب کی انسپیکشن کرنے اور دھواں چھوڑنے والی اسکول بسوں کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ناصر باغ، درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن، پارکنگ پراجیکٹس اور دیگر ماحولیاتی امور پر سخت سوالات بھی اٹھائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ناصر باغ میں درخت بار بار کیسے کٹ جاتے ہیں، حالانکہ عدالت کے پہلے احکامات موجود ہیں اور باغ کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ 123 میں سے 121 درخت ٹرانسپلانٹ کیے جا سکتے تھے اور صرف دو درختوں کی ہلکی سی ٹرمنگ کی گئی، جبکہ انڈر گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ عدالت کے احکامات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ عدالت نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو حکم دیا کہ آج ہی موقع کا دورہ کریں اور رپورٹ جمع کروائیں۔
سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ لاہور کینال کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھی درخت کاٹے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پارکنگ کے مسائل کے حل کے لیے پچھلے سات سال سے احکامات جاری ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ مستقل جاری رہنا چاہیے تاکہ اسموگ کے مسائل بہتر طور پر حل ہو سکیں۔
این جی او نے بتایا کہ گزشتہ سات برس سے بوہڑ کے درختوں کی منتقلی پر کام کر رہے ہیں اور ایک بڑا درخت بھی بچایا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ناصر باغ میں میاواکی پراجیکٹ کے تحت باغ کو بحال کیا جائے۔ این جی او نے کہا کہ ایک درخت کی منتقلی پر چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں اور اب شہری درخت اپنانے کے اقدامات بھی کر رہے ہیں۔
اسکول بسوں کے حوالے سے عدالت نے جامعہ پنجاب کی بسوں سے دھواں نکلنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جامعہ پنجاب کی بسیں فوراً بند کی جائیں۔ عدالت نے اسکولوں کو ایک ساتھ زیادہ بسیں خریدنے کی پابندی ختم کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اسکولز کنٹریکٹرز سے بسیں حاصل کر سکتے ہیں۔
واسا سے متعلق عدالت نے پانی کے میٹرز کے بارے میں استفسار کیا۔ واسا کے وکیل نے بتایا کہ 1300 میٹرز پروکیور کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 260 جوہر ٹاؤن میں نصب ہو گئے ہیں، اور پانچ سو ملین روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ پہلے کمرشل علاقوں میں میٹرز نصب کیے جائیں تاکہ لوگ پانی بچانے کے لیے خود اقدام کریں۔ واسا کو لاہور کے تازہ ترین ایکیوفر لیول کی رپورٹ بھی جمع کروانے کا حکم دیا گیا تاکہ زیر زمین پانی کی صورتحال معلوم ہو سکے۔
آخر میں عدالت نے واضح کیا کہ پارکس میں کسی بھی قسم کی تعمیراتی سرگرمی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ ماحول دوست نہیں ہوتی۔