نو مئی مقدمے میں شاہ محمود قریشی کی بریت لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
نو مئی مقدمے میں شاہ محمود قریشی کی بریت لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) 9 مئی مقدمے میں شاہ محمود قریشی کی بریت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پراسیکیوشن نے شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ شاہ محمود قریشی کی بریت کو کالعدم قرار دیا جائے۔
پراسیکیوشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس بری کیا، ٹرائل کورٹ نے شاہ محمود کے خلاف حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔
واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے اگست 2025 میں شاہ محمود قریشی کو 9 مئی مقدمات سے بری کردیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور، ٹرمپ نے بڑی دھمکی دے دی وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا مذہبی جماعت کا احتجاج: پولیس نے سی سی ٹی وی اور جیوفینسگ سے گرفتاریاں شروع کردیں لاہور ٹیسٹ: نعمان علی کے دس شکار، پاکستان نے جنوبی افریقا کو شکست دے دی سی ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کوایک ارب 84کروڑ روپے سے زائد کے واجبات پر حتمی شوکاز نوٹس جاری کردیا،کاپی سب نیوز پر اسلام آباد کی مشہور ہاؤسنگ اسکیم پر سی ڈی اے کا شکنجہ ، 42 ملین کے واجبات کا مطالبہ جج ہمایوں دلاور کیخلاف پروپیگنڈا مہم؛ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے پی کی درخواست خارج، تحریری فیصلہ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی کی بریت میں شاہ محمود قریشی لاہور ہائیکورٹ میں
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ: پیکا قانون کے تحت سزا یافتہ مجرم سلمان مرتضیٰ کی 3 سال قید معطل، ضمانت منظور
لاہور ہائیکورٹ نے پیکا قانون کے تحت سزا پانے والے سلمان مرتضیٰ کی تین سالہ قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض اس کی ضمانت منظور کر دی۔
دو رکنی بینچ جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر نے سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں سلمان مرتضیٰ کے وکیل میاں داؤد پیش ہوئے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے سلمان مرتضیٰ کو اپنی کزن کی مبینہ قابل اعتراض تصاویر چوری اور شیئر کرنے کے الزام میں سزا سنائی، حالانکہ مدعی اور متاثرہ لڑکی نے عدالت میں واضح کیا کہ سلمان نے کوئی مواد شیئر نہیں کیا۔ وکیل نے مزید کہا کہ استغاثہ ایک بھی الزام ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، اور اس مقدمے کو سلمان کے رشتہ داروں نے والدہ کی جائیداد ہتھیا لینے کے لیے بنایا تھا۔
وکیل صفائی نے عدالت کو یاد دلایا کہ قانون کے مطابق تین سال یا اس سے کم کی سزا پانے والے مجرم کو سزا معطل اور ضمانت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے تفصیلی دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سلمان مرتضیٰ کی تین سالہ قید کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔