data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ ’’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک‘‘ میں پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.6 فیصد ظاہر کی ہے، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ ابتدائی نوعیت کا ہے اور حالیہ سیلاب کے اثرات کو ابھی اس میں شامل نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو آئندہ مہینوں میں معاشی چیلنجز کا سامنا رہے گا، بالخصوص زرعی پیداوار میں کمی، سیلابی نقصانات اور مالیاتی دباؤ کی وجہ سے یہ شرح مزید کم ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق، افراطِ زر کی شرح موجودہ تخمینے میں 6 فیصد بتائی گئی ہے، مگر مہنگائی کا دباؤ برقرار رہے گا کیونکہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔ ادارے نے اشارہ دیا ہے کہ اگر سیلاب کے مالی اثرات کا درست اندازہ سامنے آیا تو افراطِ زر کی شرح میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کے دوران کئی امور پر اختلافات برقرار رہے، جن میں گورننس اور کرپشن رپورٹ کی اشاعت، بنیادی بجٹ کے سرپلس ہدف، سیلابی نقصانات کے تخمینے اور بیرونی کھاتوں کے خسارے سے متعلق حسابات شامل ہیں۔

فریقین میں بات چیت کے اختتام پر آئی ایم ایف کا وفد معاہدے کے بغیر واپس چلا گیاتھا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اسٹاف لیول ایگریمنٹ میں تاخیر متوقع ہے، اب یہ طے ہو چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی رپورٹ میں 3.

6 فیصد شرح نمو ظاہر کی گئی ہے، لیکن غیر رسمی بات چیت میں آئی ایم ایف ٹیم نے پاکستان کی ممکنہ نمو کو 3 سے 3.5 فیصد کے درمیان قرار دیا۔

حکومتِ پاکستان پہلے ہی اپنے ہدف کو 4.2 فیصد سے کم کر کے 3.5 فیصد کر چکی ہے جب کہ عالمی بینک نے اس سے بھی کم یعنی 2.6 فیصد کی پیش گوئی کی ہے۔

آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ درمیانی مدت میں پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ 4.5 فیصد کی شرح نمو تبھی ممکن ہوگی جب ملک اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرعی شعبہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے اثرات مجموعی معیشت پر نمایاں ہوں گے۔

دریں اثنا وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے سرکاری افسران کے اثاثوں کے افشا کے موجودہ نظام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فنڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں ایک جامع، مربوط نظام قائم کیا جائے جو نہ صرف بینک اکاؤنٹس بلکہ منقولہ و غیرمنقولہ تمام اثاثوں کو بھی ظاہر کرے۔

عالمی ادارے نے حکومت کی وہ تجویز مسترد کر دی جس میں صرف بینک اکاؤنٹس کی معلومات شیئر کرنے کی بات کی گئی تھی۔

عالمی سطح پر آئی ایم ایف نے 2025 کے لیے مجموعی شرح نمو کے تخمینے کو 2.8 سے بڑھا کر 3.2 فیصد کر دیا ہے، جو امریکی تجارتی محصولات کے کم منفی اثرات کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رپورٹ میں امریکا کی شرح نمو 2 فیصد اور چین کی 4.8 فیصد ظاہر کی گئی ہے، جو عالمی معیشت کے توازن کی سمت میں معمولی بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔

پاکستانی معیشت کے حوالے سے رپورٹ کا مجموعی تاثر محتاط مگر غیر حوصلہ افزا ہے۔ ادارہ اس بات پر متفق ہے کہ اگر حکومتی اصلاحات میں تاخیر برقرار رہی اور قدرتی آفات کے اثرات کو مؤثر انداز میں منظم نہ کیا گیا تو ملک کی مالی بحالی کے امکانات مزید سست ہو سکتے ہیں۔

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف رپورٹ میں کی شرح

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک: موجودہ ترقیاتی ماڈل 25 کروڑ سے زائد آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا موجودہ معاشی ترقیاتی ماڈل اب 25 کروڑ سے زیادہ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ مستقل اور مستحکم معاشی پالیسیوں کا نہ رہنا بھی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ بات انہوں نے پاکستان بزنس کونسل کے اجلاس ‘معیشت پر مذاکرات’ سے خطاب میں کہی۔ گورنر کے مطابق، گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کی معاشی نمو میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کا 30 سالہ اوسط 3.9 فیصد تھا، لیکن گزشتہ پانچ سال میں یہ صرف 3.4 فیصد تک رہ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کاروباری چکر مختصر ہو رہے ہیں اور موجودہ ماڈل ملک کو طویل مدتی استحکام فراہم نہیں کر سکتا۔ حالیہ اقدامات نے عوام اور کاروباری طبقے پر بھاری ٹیکس اور مہنگی توانائی کے بوجھ ڈالے ہیں، جبکہ حکومتی اخراجات پر قابو پانا بھی کافی حد تک ممکن نہیں رہا۔
اہم اعداد و شمار: بے روزگاری: 7.1 فیصد (21 سال کی بلند ترین سطح)، غربت کی شرح: 44.7 فیصد
گورنر نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ‘انفلیکشن پوائنٹ’ پر کھڑا ہے، جہاں فوری طور پر قلیل مدتی استحکام سے آگے بڑھ کر دیرپا اور جامع معاشی نمو کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کاروباری طبقے کو خبردار کیا کہ صرف مختصر مدتی منافع کے لیے مستقبل کی مسابقت قربان نہ کی جائے، اور نجی شعبے کو اندرونی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی منڈیوں میں حصہ لینا چاہیے۔
جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے بڑے پیمانے پر ڈالر خرید کر زرِمبادلہ ذخائر مضبوط کیے ہیں، اور مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں مہنگائی 5 تا 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو فوری طور پر مضبوط، پائیدار اور بین الاقوامی سطح سے مربوط معاشی نمو کے ماڈل کی طرف منتقل ہونا چاہیے، تاکہ ملک دوبارہ معاشی بحران اور غیر مستحکم اقدامات کے چکر میں نہ پھنسے۔
سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے بتایا کہ پاکستان کی باضابطہ معیشت کا حجم تقریباً 350 ارب ڈالر ہے، لیکن اسمگلنگ اور غیر رسمی معیشت کو شامل کرنے پر یہ تقریباً 700 ارب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور ناکامی، آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا
  • ملکی معاشی صورت حال کیسی ہے،وزارت خزانہ نے آوٹ لک رپورٹ جاری کردی
  • آئی ایم ایف نے بھارت کی معیشت کو دیا سی گریڈ، عالمی سطح پر ایک اور ناکامی
  • ملکی معاشی صورت حال کیسی ہے؟ وزارت خزانہ نے آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی
  • آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں نااہل مودی کا معاشی فریب بے نقاب
  • آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں نااہل مودی کا معاشی فریب بے نقاب 
  • ایل ایس ایم سیکٹر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، وزارت خزانہ
  • نومبر میں مہنگائی 5 سے 6 فیصد رہنے کا امکان،وزارتِ خزانہ کی معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری
  • اسٹیٹ بینک: موجودہ ترقیاتی ماڈل 25 کروڑ سے زائد آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا
  • موجودہ ترقیاتی ماڈل 25 کروڑ آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، گورنر اسٹیٹ بینک