طالبان کی درخواست پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان نے افغانستان کے صوبہ قندھار اور دارالحکومت کابل میں افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے کیے ہیں۔سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستانی فوج نے قندھار میں افغان طالبان کی بٹالین کے ہیڈکوارٹرز نمبر 4، 8 بٹالین اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5 کے اہداف کو نشانہ بنایا۔یہ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کیے گئے جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے اور کامیابی سے تباہ کیے گئے۔ کابل میں بی ایل اے کے مرکز اور قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔اس سے قبل پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ بدھ کی صبح چمن بارڈر پر افغانستان کی جانب سے چار مقامات پر حملے کیے گئے جنہیں پسپا کر دیا گیا۔

بیان کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی میں 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان طالبان نے باب دوستی کے ان کے ملک کی طرف کے حصے کو تباہ کر دیا ہے اور گولہ باری کرتے ہوئے شہری آبادی کی کوئی پروا نہیں کی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیلڈ مارشل کی صدر مملکت سے ملاقات، افغان طالبان کے جارحانہ اقدامات پر بریفنگ فیلڈ مارشل کی صدر مملکت سے ملاقات، افغان طالبان کے جارحانہ اقدامات پر بریفنگ پاکستان کا سلامتی کونسل میں لیبیا کے خودمختار سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے 30 ویں وزیراعلیٰ بن گئے پاک فوج کی مہمند میں کارروائی، 30 خوارج ہلاک، اہم ٹھکانے تباہ پاک فوج کی منہ توڑ جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، جنگ بندی کی درخواست کردی حکومتِ نے ٹی ایل پی واقعے پر فیک نیوز نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

طالبان خطے اور دنیا کیلئے مسئلہ بن رہے ہیں

اسلام ٹائمز: یورپی یونین کے تمام ممالک، خطے کے تمام ممالک اور اب امریکہ بھی بڑی تعداد میں افغانستانیوں کو نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان میں جلد "کے پی کے" سے بھی بڑی تعداد میں افغانستانیوں کی واپسی شروع ہو جائے گی، جن کو سنبھالنا اور روزگار فراہم کرنا طالبان حکومت کے لیے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ افغان طالبان کو دوست بڑھانے چاہیں، مگر افسوس انہوں نے اپنے واحد دوست ملک پاکستان کو دشمن بناکر ٹی ٹی پی کو چنا اور انڈیا سے دوستی کی پینگیں ڈالنا شروع کی ہیں۔ ویسے طالبان قیادت کو ارشد مدنی کا بیان ضرور سنوانا چاہیئے، جس میں وہ شکوہ کر رہے ہیں کہ یہاں مسلمان چانسلر تک نہیں لگ سکتا۔ ہم بنئے کو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں، جب وہ ڈز لگائے گا تو تم گھر کا راستہ بھول جاو گے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے بڑی خوشی کی خبر تھی کہ امریکہ خطے سے نکل رہا ہے۔ قارئین کرام یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی ملک یہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا کی کوئی بھی سپر پاور اس کے بارڈر پر بیٹھی ہو۔ امریکہ کا معاملہ اس حوالے سے اور بھی خطرناک ہے کہ وہ اپنا نام نہاد ورلڈ آورڈر رکھتا ہے اور اسے لالچ، دھونس، حقوق اور جب کوئی نہ مانے تو پابندیوں اور جبر یہاں تک کہ حملوں کے ذریعے منوانا چاہتا ہے۔ اس لیے جب امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے پر تول رہا تھا تو افغانستان میں اس وقت کی طالبان حکومت کو بہت سمجھایا گیا کہ حکمت سے کام لیں، کچھ لوگوں کے لیے پورے ملک اور خطے کو آگ میں نہ جھونکیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو لے کر امریکی رائے عامہ مکمل طور پر تیار کر لی گئی تھی کہ جہاں مرضی حملہ کر لیا جائے، کوئی مقامی مخالفت نہیں ہوگی اور بیرونی مخالفت کی امریکیوں کو پرواہ نہیں تھی۔

عام فہم الفاظ میں یہ طالبان کی اس وقت کی حکومت کی سادگی تھی کہ امریکہ کو خطے میں آنے کا موقع فراہم کیا اور مسلسل بیس سال خطہ جنگ کی آگ میں جھلستا رہا۔ خطے نے تاریخی مزاحمت کی اور امریکہ کو بے آبرو ہو کر خطے سے نکلنا پڑا۔ امریکی افواج کے جانے پر ہر آزادی پسند نے خوشیاں منائیں کہ جان چھوٹ گئی، اب خطے میں امن آئے گا اور جنگ و جدال کے بجائے روابط قائم ہوں گے۔ روس تک سارا خطہ باہم منسلک ہو جائے گا اور اقبال نے جس افغانستان کو ایشیا کا دل کہا تھا، اب وہ وقت آگیا ہے کہ دل درست انداز میں کام کرے اور ایشیاء یورپ و امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کرے۔ آج بھی پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا ٹویٹ ریکارڈ کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کے نکلنے پر لکھا تھا: "طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے۔" یہ اس  بات کا اعلان تھا کہ پاکستان خطے میں امریکی موجودگی کو پسند نہیں کرتا تھا اور اب دنیا کی سپر پاور کے دعویدار کو جانا پڑ رہا ہے تو اس بات کی علامت ہے کہ اصل طاقت خدا والوں کی ہے۔

خیر جیسے ہی افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی، پاکستان میں شدت پسند حملے بڑھ گئے، شروع شروع میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بھی بارڈر پر چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ پاکستان میں فیصلہ سازوں کا خیال رہا ہے کہ انڈیا ہمیں افغانستان میں الجھانا چاہتا ہے، اس لیے ہم نے ہر صورت میں افغانستان میں اپنی دوست حکومت کو سپورٹ کرنا ہے۔ پوری دنیا پاکستان کو طالبان کا سپورٹر کہہ کر پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دیتی تھی، مگر پاکستان اسی خیال سے ڈٹا رہا کہ ہم نے افغانستان میں امریکہ کے لیے زمین گرم کرنی ہے اور وہاں طالبان کی صورت ایک دوست حکومت قائم کرنی ہے۔ ایک بنیادی بات یہ بھی تھی کہ افغان طالبان کا نعرہ وطنیت کی بجائے مذہب تھا، پاکستان کا ریاستی بیانیہ بھی مذہبی ہے، اس لیے خیال یہ تھا کہ ایک مذہبی ریاست کو دوسری مذہبی ریاست سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ مگر ساری امیدیں ٹوٹ گئیں اور سہانے خوابوں پر پانی پھر گیا، جب  حملوں کی تعداد دن بدن بڑھنے لگے۔

پھر اچانک ایسا ہوا کہ افغانستان سے ایک آدھ حملہ آور کی بجائے پچاس پچاس، سو سو افراد کی تشکیلیں آنے لگیں۔ حالات تباہی کی طرف جانے لگے۔ پاکستان میں موجود ایسے علمائے کرام جو طالبان کے ہمدرد تھے، انہیں بھجوایا گیا، مگر مسئلہ جوں کا توں رہا، بلکہ آئے دن بڑھتا رہا۔ اب صورتحال یہ ہوگئی کہ پاکستان پر افغانستان کے بڑے عہدیداروں کے قریبی عزیز حملوں میں مارے جانے لگے۔ پاکستانی فیصلہ ساز ادارے اس نتیجے پر پہنچے کہ افغانستان نئے انداز میں پاکستان پر حملہ کرچکا ہے، اس لیے پاکستان نے اس کا جواب دینا شروع کیا، جس سے باقاعدہ جنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس میں قطر اور ترکی نے اپنا کردار ادا کیا اور جنگ رک گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہی خواجہ آصف جو کل تک اس کامیابی کو خدا کی طاقت سے تعبیر کر رہے تھے، اب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کابل سے کوئی امید نہیں رہی اور جس انداز میں افغان طالبان نے انڈیا کے دورے کیے ہیں اور ہر طرح سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں، جسے نظر انداز کر دیا جائے۔

اب پاک افغان تعلقات کو ریورس گئر لگ چکا ہے، اب تمام تجارتی راستے پاکستان نے یہ کہہ کر بند کر دیئے ہیں کہ خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔ اس کے ساتھ لینڈ لاک ممالک کے لیے جس راہ داری کے خواب دیکھے جا رہے تھے، وہ اپنی موت آپ مرتی نظر آرہی ہے۔ افغانستان کا پاکستان پر انحصار ہے اور پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرکے بھی افغانستان کو ٹرانزٹ کی سہولت فراہم کر رہا تھا، مگر اب لگتا ہے کہ یہاں بھی کچھ فیصلے دو جمع دو چار کی طرح لے لیے گئے ہیں۔ پاکستان کی ریاست کی پالیسی سافٹ سے ہارڈ سٹیٹ کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، ہر طرح کی مخالفت کرنے والے اور ریاست کو بلیک میل کرکے مطالبات منوانے والوں کے دن جا چکے ہیں۔ افغان طالبان کے آنے سے افغانستانیوں کو جن اچھے دنوں کی امید لگی تھی، اب لگتا ہے کہ طالبان کے دشمن ساز رویئے سے دور جا چکے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اور ریاستی ادارے بڑے طاقتور ہیں۔ پاکستان کے لیے افغان بارڈر پر ایک لاکھ مزید فوج تعینات کرنا مشکل ضرور ہے، مگر کر گزریں گے اور فوج میں اتنے اہلکاروں کا اضافہ جلد کر دیا جائے گا۔ ٹیکنالوجی بالخصوص ڈرون ٹیکنالوجی معاملات کو کافی آسان کر رہی ہے۔

دنیا افغان طالبان کے مقابل پاکستان کی پالیسی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس پر حملے کے بعد تمام افغانوں کے لیے جاری امیگریشن پالیسی بند کر دی ہے۔ لاکھوں وہاں پہنچ جانے والے اور ہزاروں یہاں مقیم اس سے متاثر ہوں گے۔ یورپی یونین کے تمام ممالک، خطے کے تمام ممالک اور اب امریکہ بھی بڑی تعداد میں افغانستانیوں کو نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان میں جلد کے پی کے سے بھی بڑی تعداد میں افغانستانیوں کی واپسی شروع ہو جائے گی، جن کو سنبھالنا اور روزگار فراہم کرنا طالبان حکومت کے لیے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ افغان طالبان کو دوست بڑھانے چاہیں، مگر افسوس انہوں نے اپنے واحد دوست ملک پاکستان کو دشمن بناکر ٹی ٹی پی کو چنا اور انڈیا سے دوستی کی پینگیں ڈالنا شروع کی ہیں۔ ویسے طالبان قیادت کو ارشد مدنی کا بیان ضرور سنوانا چاہیئے، جس میں وہ شکوہ کر رہے ہیں کہ یہاں مسلمان چانسلر تک نہیں لگ سکتا۔ ہم بنئے کو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں، جب وہ ڈز لگائے گا تو تم گھر کا راستہ بھول جاو گے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشت گردی اور افغانستان
  • اقوام متحدہ نے افغان سرحد کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے: اسحاق ڈار
  • اقوامِ متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش پر نظرثانی کی درخواست کردی، فیصلہ قیادت سے مشاورت کے بعد ہوگا: اسحاق ڈار
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • سوشل میڈیا پرعمران خان بارے فیک نیوز، افواہیں انتہائی خطرناک ہیں، دفترخارجہ
  • سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم کے حوالے سے فیک نیوز اور افواہیں انتہائی خطرناک ہیں: دفتر خارجہ
  • عمران خان فیک نیوز ، بھارت اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس ملوث ہیں، دفتر خارجہ
  • طالبان خطے اور دنیا کیلئے مسئلہ بن رہے ہیں
  • وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی
  • وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ