پاک فوج کی مہمند میں کارروائی: افغان طالبان کی الخوارج کی تشکیل کی کوش ناکام، ٹی ٹی پی کے 30 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاک فوج نے مہمند میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی تشکیل کی کوشش ناکام بنادی۔
پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی نے افغان طالبان کو فتنہ الخوارج پر انحصار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی پاکستان میں بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی اور خارجی ہلاک
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند کے علاقے میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک گروہ کو علاقے میں تعینات کرنے کی بڑی کوشش ناکام بنا دی۔
بریکنگ
پاک فوج کی مہمند میں بروقت کارروائی ، تشکیل میں آنے والے 30 خوارج جہنم واصل
پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی نے افغان طالبان کو فتنہ الخوارج پر انحصار کرنے پر مجبور کردیا، سیکیورٹی ذرائع
افغان طالبان کی فتنہ الخوارج کی مدد سے ایک بڑی تشکیل مہمند بھیجنے کی کوشش پاک فوج… pic.
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 15, 2025
پاک فوج کی مؤثر کارروائی میں کالعدم تنظیم (ٹی ٹی پی) کے 30 دہشتگرد مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فورسز کیخلاف کارروائیوں میں ملوث دہشتگرد کمانڈر افغانستان میں ہلاک
دہشتگردوں کا مقصد طورخم زئی کے سرحدی علاقے میں داخل ہوکر تخریب کاری پھیلانا تھا، یہ کارروائی پاک فوج کے حالیہ کامیاب انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کے خلاف ایک ناکام جوابی کوشش تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں آپریشن تاحال جاری ہے اور مزید ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغان طالبان پاک فوج ٹی ٹی پی خیبرپختونخوا فتنہ الخوارج مہمندذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان پاک فوج ٹی ٹی پی خیبرپختونخوا فتنہ الخوارج افغان طالبان کی فتنہ الخوارج پاک فوج کی علاقے میں ٹی ٹی پی
پڑھیں:
افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکانوال امریکا کیسے پہنچا؟
افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکانوال جو وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 ارکان پر فائرنگ کے واقعے میں مبینہ ملزم ہیں، 2021 میں امریکی بائیڈن انتظامیہ کے افغان ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا منتقل ہوئے تھے۔
ریپبلکن قانون سازوں نے برسوں پہلے خبردار کیا تھا کہ اس پروگرام میں سکیورٹی خلا کے باعث امریکی شہری خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا امریکیوں پر حملہ آور افغان دہشتگرد سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دیتا رہا؟
سالہ 29 لکنوال ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت ستمبر 2021 میں امریکا پہنچے اور بیلنگھم، واشنگٹن میں آباد ہوا۔ امریکی ذرائع کے مطابق یہ پروگرام افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران شروع کیا گیا اور تقریباً 90,000 افغان شہریوں کو امریکا منتقل کیا گیا، جن میں سے کچھ کو عارضی قانونی حیثیت دی گئی تاکہ وہ امریکا میں قانونی طور پر رہائش اختیار کر سکیں اور کام کر سکیں۔
ریپبلکن قانون سازوں نے اس پروگرام کے آغاز سے ہی سیکیورٹی اسکریننگ کے ناقص ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ سینیٹر جونی ارنسٹ نے 2021 میں لکھا تھا کہ افغان شہریوں کو امریکا لانے کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی سکیورٹی جانچ غیر واضح اور ناکافی ہے، اور ممکنہ دہشتگرد کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکانوال کے حملے کو ’دہشتگردانہ کارروائی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام امریکی فوجیوں اور پوری قوم کے خلاف ایک جرم ہے۔
اس واقعے کے بعد ایف بی آئی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا حملہ بین الاقوامی دہشتگردی سے متعلق تھا اور یہ واقعہ بائیڈن دور کے افغان ری سیٹلمنٹ پروگرام میں موجود سیکیورٹی کمزوریوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان دہشتگرد امریکا حملہ رحمان اللہ لکنوال