اسلام آباد:اسلام آباد میں بدھ کو سعودی-پاک مشترکہ بزنس کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں شہزادہ منصور بن محمد السعود کی قیادت میں سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی تجارتی وفد شریک ہوا۔ یہ اجلاس سعودی-پاک مشترکہ بزنس کونسل کے زیر اہتمام سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور وزارت تجارت کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔سعودی وفد میں معدنیات، توانائی، زراعت و لائیو سٹاک، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور رئیل اسٹیٹ کے اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ پاکستان کے نجی شعبے اور ممتاز کاروباری اداروں کے نمائندگان نے بھی اجلاس میں شرکت کی جس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ کے عزم کی جھلک نمایاں ہوئی۔ اجلاس کے دوران پاکستانی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور صنعت کاروں نے وفد کو پاکستان کے بدلتے ہوئے سرمایہ کاری ماحول، ایس آئی ایف سی کے ترجیحی شعبوں میں مواقع اور حکومت کی سرمایہ کار دوست اصلاحات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔مشترکہ بزنس کونسل دونوں ممالک کے مابین نجی شعبے کے اشتراک، مشترکہ منصوبہ بندی اور پائیدار اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ایک موثر ادارتی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ شہزادہ منصور بن محمد السعود نے پاکستان کی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب وژن 2030 کے اہداف کے مطابق پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم علاقائی شراکت دار ہے جس میں زراعت، معدنیات، توانائی، ٹیکنالوجی، سیاحت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نے وزارت تجارت کے اشتراک سے سعودی وفد کے لیے ایک خصوصی بریفنگ سیشن کا اہتمام بھی کیا جس میں پاکستان کے سرمایہ کاری فریم ورک، ضابطہ جاتی اصلاحات اور ایس آئی ایف سی کے ترجیحی شعبوں خصوصاً توانائی، معدنیات، زراعت، سیاحت، رئیل اسٹیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں موجود مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔دورے کے دوران سعودی وفد کراچی اور لاہور کا بھی دورہ کرے گا جہاں ایس آئی ایف سی صوبائی حکومتوں اور نمایاں کاروباری اداروں کے ساتھ وفد کی ملاقاتوں کو موثر انداز میں سہولت فراہم کرے گا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں اور پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے علاقائی و قومی سطح پر اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔یہ دورہ سعودی وژن 2030 اور پاکستان کی سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کے باہمی اہداف کے حصول کی سمت ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی ہم آہنگی اور پائیدار ترقی، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو ایک مستقل بین معاشی شراکت داری میں تبدیل کریں گے جس سے نجی شعبے کے اشتراک، علاقائی استحکام اور تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مشترکہ بزنس کونسل ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری پاکستان کے کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات