وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دفاعی معاہدے کے بعد اب پاک سعودی تعلقات کو کاروبار اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائیں گے جبکہ سعودی عرب اس حوالے سے ہماری ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں سعودی عرب سے آئے اعلیٰ سطح کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے شرکا سے گفتگو کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم یہاں ایک خاندان کی طرح بیٹھے ہیں، گزشتہ چالیس سال سے سیاست میں ہوں، پہلی بار60 کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب گیا تھا، سعودی عرب کے کئی دورے کئے،مگر حالیہ دورہ ریاض بالکل منفرد تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ سعودی بھائی بہنوں نے ہمیشہ پاکستان کیلئے بے مثال محبت دکھائی جبکہ سعودی عرب نے ہر مشکل اور آزمائش میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔  سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیر متزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا یہ عزم ہمارے تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہا اور رہے گا، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہرمسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے،  مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہمیشہ کیلئے محافظ رہیں گے۔ 

شہباز شریف نے کہا کہ پاک سعودی تعلقات کو کاروباراورسرمایہ کاری کی بنیاد پرمزید مضبوط بنائیں گے، اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ کاروباری خواب کو حقیقت بنانے کیلئے تعاون سے کام کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اورترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو آٓگے بڑھائیں گے، آج ہمیں سعودی عرب سے سیکھنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ موقع میسر ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب بھی ہمیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے،وزیراعظم ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور وژنری قیادت نے سعودی معاشرے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

دوسری جانب سعودی وفد کے سربراہ شہزاد منصور بن محمد السعود نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل اجلاس کیلئے آئے ہیں، یہاں آنے سے قبل سعودی عرب کے تمام وزرا سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان میں ممکنہ اسٹریٹجک منصوبوں بارے آگاہ کیا۔

شہزادہ منصوربن محمدالسعود نے کہا کہ سعودی کاروباری طبقے کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولتیں دی جائینگی۔
 

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان شہباز شریف نے سرمایہ کاری نے کہا کہ کہ سعودی

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد