سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی ترقیاتی منصوبے شاہ سلمان دروازہ کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

یہ منصوبہ مسجدِ الحرام کے قریب 12 ملین مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کیا جائے گا اور مکہ مکرمہ کے بنیادی ڈھانچے میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کا روشن سفر، 10 سالہ حکمرانی کا سنگ میل

منصوبے کا مقصد مکہ مکرمہ، خصوصاً مرکزی علاقے کو جدید ترقی کا عالمی نمونہ بنانا اور زائرینِ بیت اللہ الحرام کے لیے سہولتوں میں نمایاں بہتری لانا ہے۔

اس کے تحت اعلیٰ معیار کی رہائشی، ثقافتی اور خدماتی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جب کہ منصوبہ مجموعی طور پر 9 لاکھ نمازیوں کے لیے اندرونی وبیرونی مصلیٰ جات کی گنجائش رکھتا ہے۔

سمو #ولي_العهد يعلن إطلاق مشروع #بوابة_الملك_سلمان في مكة المكرمة، الوجهة المتكاملة التي تمتد على إجمالي مسطحات بناء تصل إلى 12 مليون م² بجوار المسجد الحرام.

https://t.co/Mwos0tv9QP#حيث_تحيا_اللحظات#حياتك_بجوار_المسجد_الحرام#واس pic.twitter.com/FV8mPWxnF4

— واس الأخبار الملكية (@spagov) October 15, 2025

یہ منصوبہ عام ٹرانسپورٹ کے جدید نظام سے منسلک ہوگا تاکہ مسجدِ الحرام تک پہنچنا مزید آسان ہو جائے۔

اس کا ڈیزائن مکہ کے روایتی فنِ تعمیر اور جدید طرزِ زندگی کا خوبصورت امتزاج پیش کرے گا، جو شہر کے تاریخی اور روحانی ماحول سے ہم آہنگ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی 31 دسمبر سے پہلے دورہ پاکستان کی تیاریاں

شاہ سلمان دروازہ کے منصوبے میں تقریباً 19 ہزار مربع میٹر پر مشتمل تاریخی و ثقافتی مقامات کی بحالی بھی شامل ہے، تاکہ مکہ مکرمہ کی قدیم شناخت برقرار رہے اور زائرین کو ایک منفرد روحانی و ثقافتی تجربہ فراہم کیا جاسکے۔

سمو #ولي_العهد يعلن إطلاق مشروع #بوابة_الملك_سلمان في مكة المكرمة، الوجهة المتكاملة التي تمتد على إجمالي مسطحات بناء تصل إلى 12 مليون م² بجوار المسجد الحرام.

اتوقع هذا اول مشاريع رؤية ٢٠٤٠ الكبرى !!! pic.twitter.com/qwK0rRoopd

— Saud (@Saudfromabove) October 15, 2025

یہ منصوبہ رؤی الحرم المکی کمپنی کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے، جو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ذیلی کمپنی ہے۔

منصوبے سے سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق 2036 تک 3 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ مکہ مکرمہ کو پائیدار ترقی، جدید سہولتوں اور روحانی عظمت کا نیا مرکز بنا دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news سعودی عرب شاہ سلمان دروازہ شہزادہ سلمان ولی عہد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شاہ سلمان دروازہ ولی عہد مکہ مکرمہ شاہ سلمان یہ منصوبہ ولی عہد

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے