چین کا حیران کن منصوبہ: فوجیوں کو ’انسانی کیلکولیٹر‘ بنانے کی تربیت شروع
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
بیجنگ: چین نے اپنی فوج میں ایک منفرد تربیتی نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت فوجیوں کو ایسے ’’انسانی اباکس‘‘ میں تبدیل کیا جارہا ہے جو جدید ٹیکنالوجی ناکام ہونے کی صورت میں روایتی انداز میں حساب کتاب کر سکیں۔
چینی میڈیا کے مطابق یہ پروگرام پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ہائی ٹیک آلات کی خرابی یا تباہی کی صورت میں فوجیوں کو ذہنی کیلکولیشن کی مہارت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ میدانِ جنگ میں فیصلے جاری رکھ سکیں۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ ایک فوجی مشق کے دوران کیپٹن شو میدُو نے ریڈار سسٹم کی ناکامی کے باوجود چند سیکنڈز میں تین اہداف کی سمت، بلندی اور رفتار کا حساب لگا کر درست نشانہ حاصل کیا۔
یہ تربیت ابتدائی طور پر لاجسٹک سپورٹ اور فوجی سپلائی کے حساب کتاب کے لیے شروع کی گئی تھی، مگر 2019 کے بعد اسے جنگی تربیت میں بھی شامل کر لیا گیا۔
چینی فوج کے ترجمان پی ایل اے ڈیلی کے مطابق اباکس کیلکولیشن تکنیک نہ صرف توپ خانے اور انفنٹری یونٹس کو گولہ باری کے درست اوقات کے تعین میں مدد دیتی ہے بلکہ سپاہیوں کو دباؤ میں توجہ برقرار رکھنے کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔
ایک فوجی افسر کے مطابق ’’اگر جنگ میں ہائی ٹیک آلات ناکام ہوجائیں تو انسانی ذہن کی کیلکولیشن بہترین متبادل ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘
سی سی ٹی وی نے بتایا کہ پی ایل اے کی اباکس ٹیم 1994 میں قائم کی گئی تھی جو آٹھ سال کی عمر سے بچوں کو تربیت دیتی ہے۔ کیپٹن شو میدُو نے 11 سال کی عمر میں پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں کئی قومی و بین الاقوامی مقابلے جیتنے کے بعد اب خود فوجی سپاہیوں کو یہ مہارت سکھا رہی ہیں۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکی سینیٹر کا ٹرمپ انتظامیہ سے غزہ کے لیے مکمل انسانی امداد کھولنے کا مطالبہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: غزہ میں جاری اسرائیلی محاصرے اور تباہ کن بمباری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انسانی بحران سرد موسم کی شدت کے ساتھ مزید بگڑتا جا رہا ہے، جس پر امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایک بار پھر کھل کر فلسطینی عوام کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن اپنی سفارتی طاقت استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو مجبور کرے کہ وہ غزہ کے لیے انسانی امداد کا مکمل دروازہ کھولے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت لاکھوں فلسطینی سخت ترین سرد حالات میں بغیر پناہ، بغیر حفاظتی سامان اور بغیر بنیادی ضروریات کے زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور ایسے وقت میں امداد روکے رکھنا کسی بھی اخلاقی یا انسانی اصول کے مطابق نہیں۔
برنی سینڈرز نے اپنے بیان میں بتایا کہ اسرائیلی حملوں نے 92 فیصد گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جس کے باعث ایک ملین سے زائد فلسطینی کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نہ صرف امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں بلکہ خیموں، موبائل یونٹس اور ہنگامی امداد جیسے بنیادی مواد تک کے داخلے کو بھی روک رہے ہیں۔
برنی سینڈرز کا کہنا تھا کہ امریکا اگر واقعی انسانی حقوق کو مقدم سمجھتا ہے تو اسے اسرائیل سے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں کہنا چاہیے کہ غزہ تک امداد پہنچنے سے روکنے کا یہ سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔
واضح رہے کہ غزہ کی موجودہ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی حکام کے مطابق 15 لاکھ سے زائد فلسطینی مکمل طور پر بے گھر ہو چکے ہیں اور اس وقت سخت ترین سردیوں میں کھلے میدانوں اور تباہ شدہ علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
محصور پٹی میں ادویات، خوراک، پینے کے صاف پانی اور ایندھن جیسی بنیادی ضروریات تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ اسپتالوں کی حالت بدترین ہے، اور محاصرے نے نظامِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق کئی علاقوں میں بچے بھوک اور سردی سے بے ہوش ہو رہے ہیں جبکہ بیمار اور زخمی افراد تک ادویات پہنچانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
اسی دوران سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار صورتحال کی ہولناکی کو اور بھی نمایاں کرتے ہیں، جن کے مطابق اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی بمباری میں اب تک تقریباً 70 ہزار فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں جب کہ 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، جنہیں کسی محفوظ مقام تک رسائی میسر نہیں۔
غزہ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں کم از کم 3 لاکھ خیموں اور پری فیبریکیٹڈ یونٹس کی فوری ضرورت ہے تاکہ بے گھر خاندانوں کو عارضی طور پر ہی سہی، محفوظ پناہ فراہم کی جا سکے۔