ڈیجیٹل دور میں گمراہ کن معلومات کا تدارک، یونیسکو نے پاکستانی تجویز منظور کر لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
—جنگ فوٹو
یونیسکو نے غلط اور گمراہ کن معلومات اور نفرت انگیز تقاریر کے تدارک کے ذریعے اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ اور ڈیجیٹل دور میں معلومات کی سچائی کو یقینی بنانے سے متعلق پاکستان کی پیش کردہ تجویز کو منظور کر لیا ہے۔
پیرس میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے پریس ریلیز کے مطابق یہ تجویز پاکستان کی مستقل مندوب برائے یونیسکو و سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے یونیسکو کے ایگزیکٹیو بورڈ کے 222 ویں اجلاس میں پیش کی۔
پاکستان کی اس تجویز کو مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک کی وسیع حمایت حاصل ہوئی، جو ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور جامع معلوماتی ماحول کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے، یہ عزم انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور معلومات تک عالمی رسائی کے اصولوں پر مبنی ہے۔
یونیسکو کے ایگزیکٹیو بورڈ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور نیورو ٹیکنالوجی، عالمی سطح پر نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔
بورڈ نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا کہ وہ شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنائیں، مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل شدہ مواد کی شناخت اور لیبلنگ کے نظام کو بہتر بنائیں اور تصدیقی اقدامات کو مزید مضبوط کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔