مڈغاسکر میں نوجوانوں کی بغاوت کامیاب، صدر راجویلینا فرانسیسی فوجی طیارے میں فرار
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈوڈوما : مشرقی افریقہ کے جزیرہ نما ملک مڈغاسکر میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں صدر اینڈری راجویلینا ملک چھوڑ کر فرانسیسی فوجی طیارے کے ذریعے فرار ہوگئے، یہ چند ہفتوں کے اندر دنیا بھر میں جنریشن زی کے احتجاج سے گرنے والی دوسری حکومت ہے، جس نے عالمی سطح پر نوجوانوں کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ کو نمایاں کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حزبِ اختلاف کے رہنما سیتنی رانڈریاناسولونائیکو نے دعویٰ کیا کہ اینڈری راجویلینا ہفتے کی شب ملک چھوڑ گئے، جب فوج کے کئی یونٹس نے عوامی مظاہرین کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ ایک فوجی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی کہ مشرقی افریقہ کے صدر فرانسیسی فوجی طیارے میں سوار ہو کر روانہ ہوئے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق اینڈری راجویلینا نے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا تھا، میکرون نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکتے، البتہ یہ ضرور زور دیا کہ مڈغاسکر میں آئینی نظام برقرار رہنا چاہیے۔
واضح رہے کہ مڈغاسکر میں 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے تیزی سے بدعنوانی اور مہنگائی کے خلاف ایک عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 16 سالوں میں حکمران طبقہ امیر جبکہ عوام شدید غربت کا شکار ہو گئے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل (جنریشن زی) سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔
صورتحال اس وقت فیصلہ کن موڑ پر پہنچی جب فوج کے ایک اہم یونٹ کیپسیٹ نے حکومت کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا اور مظاہرین کے ساتھ شامل ہو گئی، اس کے بعد سینیٹ نے صدر کو برطرف کرتے ہوئے ژاں آندرے ندرمنجاری کو عبوری صدر مقرر کر دیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 22 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد دارالحکومت کے مرکزی چوک میں جمع ہو کر صدر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مڈغاسکر کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ 20 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جب کہ تین چوتھائی عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ، یہی وہ طبقہ ہے جس کی قیادت میں اس تاریخی بغاوت نے جنم لیا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر دیا
پڑھیں:
دمشق پر اسرائیلی حملوں میں 10 شامی شہری جاں بحق، متعدد فوجی زخمی
دمشق کے مضافات میں اسرائیلی فوج نے فضائیہ اور توپ خانے کے ذریعے ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 10 شامی شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
حملہ دارالحکومت کے قریب واقع قصبے بیت جن میں کیا گیا جہاں اسرائیلی فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
شامی میڈیا کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوجی دستہ تین افراد کی گرفتاری کے بعد علاقے میں تعینات ہوا۔ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے نے مسلسل بمباری کی، جس کے بعد مقامی لوگ قریبی دیہات کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کا ہدف وہ مطلوب افراد تھے جو مبینہ طور پر اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
فوج کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں چھ اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے، جن میں دو افسران کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
رواں سال 2025 میں اسرائیل کی جانب سے شام میں متعدد حملے کیے جا چکے ہیں، جن کے بارے میں اسرائیلی مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں سرحدی خطرات روکنے کے لیے کی جاتی ہیں، جبکہ شامی حکومت انہیں براہِ راست جارحیت قرار دیتی ہے۔