ن لیگ نے ریڈ لائنز کراس کرلیں، پیپلزپارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر غور شروع کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان لفظی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما و رکنِ قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے سے متعلق فیصلہ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
وی نیوز سے گفتگو میں علی قاسم گیلانی نے انکشاف کیا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر ’سخت غصے‘ میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں مریم نواز معافی نہیں مانگیں گی لیکن وزیراعلٰی کے منصب سے بیان بازی کو طول نہ دیا جائے: نواز شریف کی ہدایت
انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے کئی ریڈ لائنز عبور کی ہیں۔ پنجاب کے وزراء کی جانب سے آصفہ بھٹو اور سندھ حکومت کے بارے میں اشتعال انگیز گفتگو ناقابلِ قبول ہے۔
سیکیورٹی واپس لینے پر پارٹی کا ردِعملانہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور ان کے اہلِ خانہ کی سیکیورٹی واپس لینے کے بعد
پیپلزپارٹی نے ’جارحانہ‘ سیاسی حکمتِ عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
علی قاسم گیلانی کے مطابق، ان کے بھائی علی حیدر گیلانی نے پنجاب میں اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کی تجویز بلاول بھٹو کو دی ہے،
جس پر بلاول نے جواب دیا کہ اگر اپوزیشن میں گئے تو وفاق اور پنجاب، دونوں اسمبلیوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعلیٰ مریم نواز کے بڑھتے بیانات، پیپلز پارٹی پنجاب کا صوبائی حکومت کے ساتھ مزید چلنے سے انکار
انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو آئندہ چند روز میں وطن واپس پہنچیں گے، جس کے بعد سی ای سی کا اجلاس بلا کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
تحریکِ انصاف کی آفر پر مؤقفپی ٹی آئی کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی پیشکش پر بات کرتے ہوئے علی قاسم گیلانی نے کہا کہ یہ آفر فی الحال سنجیدہ نہیں لگتی۔ کل ہی پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے سیاسی اختلافات رہیں گے، لیکن اگر تحریکِ عدم اعتماد آئی تو وہ حمایت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کو خود واضح طور پر اعلان کرنا چاہیے کہ ان کی جماعت پیپلزپارٹی کا ساتھ دے گی۔ ہم یہ معاملہ بہرحال سی ای سی کے اجلاس میں پیش کریں گے اور وہاں فیصلہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علی قاسم گیلانی بلاول بھٹو مریم نواز گیلانی نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت