Daily Sub News:
2026-06-02@23:39:44 GMT

ذبیح اللہ مجاہد کا 58 پاکستانی فوجی شہید کرنے کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT

ذبیح اللہ مجاہد کا 58 پاکستانی فوجی شہید کرنے کا دعویٰ

ذبیح اللہ مجاہد کا 58 پاکستانی فوجی شہید کرنے کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز

افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ شب پاکستانی فورسز کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں 58 پاکستانی فوجی شہید اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتے کی رات سے جاری پاکستانی جوابی کارروائی پر اتوار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغان افواج نے جوابی کارروائی کے دوران متعدد پاکستانی چوکیاں تباہ کیں اور کچھ ہتھیار عارضی طور پر اپنے قبضے میں لے لیے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران نو افغان فوجی ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، اور مزید دعویٰ کیا کہ 20 پاکستانی سیکیورٹی پوسٹس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی جانب سے یہ کارروائیاں رات بارہ بجے قطر اور سعودی عرب کی درخواست پر روک دی گئیں۔
افغان ترجمان کے مطابق طالبان کی یہ جوابی کارروائیاں ڈیورنڈ لائن کے قریب افغان صوبوں کنڑ، ہلمند اور دیگر سرحدی علاقوں میں کی گئیں۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین پر کیے جانے والے مبینہ فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ داعش خراسان (ISIS-K) کو افغانستان میں شکست کے بعد اب پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں پناہ دی گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ داعش کے تربیتی مراکز خیبرپختونخوا میں قائم ہیں، جہاں جنگجوؤں کو کراچی اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان نے کابل میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کی درخواست کی تھی، تاہم طالبان حکومت نے جمعرات کی شب پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
قبل ازیں، افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے ہفتے کی شب ایک بیان میں کہا کہ طالبان فورسز نے پاکستان کی جانب سے بار بار سرحدی خلاف ورزیوں اور فضائی حملوں کے جواب میں ”جوابی کارروائیاں“ کیں۔

طالبان کے دعوؤں پر تاحال پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا ہے اور افغان سرزمین پر دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی 19 افغان چوکیوں پر قبضہ بھی کرلیا گیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے متنبہ کیا کہ افغانستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دیا جائے گا، اور امارتِ اسلامیہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمذہبی جماعت کا احتجاج اسلام آباد، راولپنڈی کے کچھ راستے کھل گئے، موبائل انٹرنیٹ جزوی بحال مذہبی جماعت کا احتجاج اسلام آباد، راولپنڈی کے کچھ راستے کھل گئے، موبائل انٹرنیٹ جزوی بحال افغان حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچےہیں: خواجہ آصف اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کل صبح شروع ہو گی: اعلیٰ عہدیدار حماس خیبرپختونخوا: وزارتِ اعلیٰ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ امیدواروں کے نام سامنے آگئے غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل، امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے افغانستان کی جارحیت اور پاکستانی ردعمل عوام کے درمیان جنگ نہیں: سکیورٹی ذرائع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ذبیح اللہ مجاہد

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان