افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے افغان طالبان کو خبردار کیا کہ بھارت ان کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے جو کہ استعمال ہورہی ہے۔
غزہ مارچ سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دل کی طرح دھڑکتے ہیں تاہم دونوں طرف کی پالیسیوں نے حالات بگڑنے میں کردار ادا کیا ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان غزہ کے عوام کی مدد کے لیے کردار ادا کرے، حافظ نعیم کا وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ
امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے اور کہا کہ آپس میں لڑائی کرانا سامراج کا ہدف ہوتا ہے، ہمیں ایک دوسرے کا صفحہ ہموار کرنا چاہیے۔
انہوں نے افغان طالبان سے مخاطب ہو کر کہا کہ بھارت کبھی بھی ان کا خیرخواہ ثابت نہیں ہوگا اور انہیں بھارت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان اور افغانستان کے حکام سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں اور اپنی آزادی و خودمختاری کا سودا نہ کریں۔
’ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں کیا‘غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے، لوگ شہید ہو رہے ہیں اور بھوک کا شکار ہیں اور ٹرمپ نے کوئی ٹھوس معاہدہ پیش نہیں کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغرب کے مقابلے پر کھڑا ہونے کے لیے کوئی موزوں متبادل سامنے نہیں آیا اور حکومتوں کو اس کا جواب دینا ہوگا کہ جب بچے قتل ہو رہے تھے تو وہ خاموش کیوں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کے اقدام کو سراہتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
نعیم الرحمان نے کہا کہ نیو یارک کے میئر الیکشن، یورپ اور سڈنی سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ احتجاج میں کھڑے ہیں اور برطانیہ کے انتخابات پر غزہ کی صورتحال کا اثر نما نظر آیا۔ انہوں نے ٹرمپ کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے پیچھے بڑی رقم خرچ ہوئی۔
امیر جماعت اسلامی نے مغربی ممالک میں دولت اور طاقت کے غلبے پر سوال اٹھایا اور یورپ و اقوامِ متحدہ سے استفسار کیا کہ غزہ پر بمباری کے سلسلے میں خاموشی کیوں اختیار کی گئی ہے۔
’امریکیوں نے ٹرمپ کو نوبل عالمی ایوارڈ دینے کے خیال کی مخالفت کی‘انہوں نے کہا کہ یورپی میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے مگر سچ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آ رہا ہے اور 76 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کو نوبل عالمی ایوارڈ دینے کے خیال کی مخالفت کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے اسلام کو ایک نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا اور مسلم ممالک میں ڈکٹیٹر اور بیرونی ایجنٹس موجود ہیں جو نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی منافقت ایک دفعہ پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے، حافظ نعیم الرحمان
وہ عوام کو 22 اور 23 نومبر کو مینارِ پاکستان میں شرکت کی دعوت بھی دے رہے ہیں اور اس مہم کا نعرہ نظام کو بدلنے کا اعلان ہے۔
عدالتی نظام اور بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وکیلوں اور ججز کی قیمتوں کے باعث انصاف عام آدمی کے لیے مہیا نہیں رہا، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں بے اختیار ہو گئی ہیں اور موجودہ بیوروکریسی انگریز دور کا وراثت ہے جو عوام کے وسائل پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ان کے پاس متبادل نظام موجود ہے اور وہ ایسے افراد کو باہر نکال کر انگریز کے بنائے ہوئے عدالتی اور انتظامی نظام میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل افغانستان امریکا پاکستان جماعت اسلامی جنگ بندی حافظ نعیم الرحمان غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل افغانستان امریکا پاکستان جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان فلسطین حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے نہیں ہو ہیں اور کے خلاف کے لیے یہ بھی
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔