کروڑوں روپوں کی کرنسی اور زیورات گھر میں کیوں رکھے جاتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
لاہور میں پولیس اور حساس اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کے گھر پر چھاپہ مار کر 11 کروڑ 42 لاکھ روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چلاس کے پہاڑوں میں دریائی مٹی سے سونا چننے والا قبیلہ
ان میں بھارتی کرنسی، امریکی ڈالر، یورو، پاؤنڈ اور سعودی ریال سمیت دیگر ممالک کی کرنسیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک کلو 922 گرام سونا اور 989 گرام چاندی بھی برآمد ہوئی ہے۔
سابقہ کارروائینومبر 2018 کو بھی اسی طرز کی ایک کارروائی میں نیب نے لاہور کینال روڈ پر واقع ای ایم ای سوسائٹی میں گریڈ 16 کے سابق سرکاری افسر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر 33 کروڑ روپے برآمد کر لیے تھے۔
ان میں 10 کروڑ روپے پاکستانی کرنسی جبکہ 17 کروڑ روپے کے پرائز بانڈز برآمد کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ساڑھے 3 کروڑ مالیت کی 11 مختلف ممالک کی کرنسی بھی برآمد کی گئی تھی۔
ماہرین کا تجزیہوی نیوز نے معاشی تجزیہ کار مہتاب حیدر سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی، نقدی اور زیورات کیوں گھروں میں چھپا کر رکھے جاتے ہیں اور بینکوں میں محفوظ اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائے جاتے۔
ٹیکس چوری اور مشکوک ذرائع آمدنمہتاب حیدر نے کہا کہ کوئی بھی شخص جس کے ذرائع آمدن مشکوک ہوں اور وہ ٹیکس چوری کرتا ہو تو ایسا شخص اپنی کرنسی یا زیورات بینکوں سمیت دیگر اداروں کی نظروں سے دور رکھتا ہے۔
مہتاب حیدر کے مطابق ایسے لوگ ٹیکس چوری کے باعث سنگین جرم میں ملوث ہوتے ہیں، ٹیکس چھپاتے ہیں اور تمام اثاثے اور آمدنی کو خفیہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایک بڑا جرم کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔
بینکوں میں پیسے رکھنے سے اجتنابراولپنڈی اسلام آباد ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری سید محمد عباس نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے پاس جو بھی اثاثے چاہے وہ نقدی کی صورت میں ہوں یا کسی جائیداد کی صورت میں ہوں، ان پر ٹیکس دینا ضروری ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا کلرک لیکن 24 گھروں، کروڑوں کے اثاثوں کا مالک
چونکہ پاکستان میں مکمل ٹیکس دینے کا رواج نہیں ہے تو لوگ ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے سے زیادہ ترجیح اس بات کو دیتے ہیں کہ پیسے گھر میں رکھ لیے جائیں۔
منی ٹریل اور قانونی ذمہ داریانہوں نے مزید کہا کہ بینک میں اگر آپ پیسے رکھتے ہیں تو اس کے لیے آپ کے پاس ان پیسوں کا ذرائع آمدن ہونا چاہیے، آپ کے پاس منی ٹریل ہونا چاہیے اور پھر وہ اثاثے اپنی ٹیکس ریٹرن میں بھی ظاہر کرنے چاہیے۔
چونکہ لوگ ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنے اثاثے چھپاتے ہیں یا اپنے ذرائع آمدن کو خفیہ رکھتے ہیں یا کسی خفیہ طرز سے ان کو پیسے حاصل ہوتے ہیں، تو وہ بینکوں کی بجائے پیسے اپنے گھر رکھنا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔
قانونی پہلوسید محمد عباس نے کہا کہ اگر کسی شخص کے پاس بھاری مالیت کے زیورات یا غیر ملکی کرنسی موجود ہے اور اس نے اپنے ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کی ہوئی ہے اور اس کے ذرائع آمدن بھی ہیں تو ایسی صورت میں گھر میں بڑی مالیت کی کیش یا زیورات رکھنا کوئی جرم نہیں ہے۔
البتہ اگر آپ کے ٹیکس ریٹرن کے مطابق یہ اثاثے نہیں ہیں اور آپ کی آمدنی سے زائد ہیں تو یہ جرم ہے اور ایسی صورت میں قانون حرکت میں آ کر یہ اثاثے ضبط بھی کر سکتا ہے اور تفتیش کر سکتا ہے کہ یہ کرنسی یا پیسے کہاں سے آئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان چاندی سعد رضوی سونا سید محمد عباس کرنسی مہتاب حیدر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان چاندی سعد رضوی مہتاب حیدر مہتاب حیدر کی کرنسی مالیت کی ہیں اور ہے اور کے لیے کے پاس کہا کہ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔