ٹی ایل پی کے دفاتر‘اسٹورز پر چھاپے‘ قیمتی سامان ضبط‘سعد رضوی کو سرینڈرکرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-01-23
لاہور، اسلام آباد (نمائندگان جسارت) پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنان کے دفاتر اور ا سٹورز پر چھاپے مارے۔پولیس نے کارروائی کے دوران اسلحہ، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دستاویزات قبضے میں لیں، کارروائی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت حساس انٹیلی جنس رپورٹ پر کی گئی جب کہ سامان کی ضبطی پولیس ایکٹ اور انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت ہوئی۔کارروائی میں سی ٹی ڈی، ایس پی آپریشنز اور مقامی تھانے کی ٹیمیں شامل تھیں جب کہ موقع پر موجود مجسٹریٹ نے ضبطی کارروائی کی نگرانی کی،ضبط شدہ ریکارڈ کو فرانزک ٹیم کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ضبط سامان میں لیپ ٹاپس، ہارڈ ڈرائیوز، موبائل فونز، سوشل میڈیا ڈیٹا، پارٹی لٹریچر، چندہ رجسٹر، تنظیمی مواد ،حساس نوعیت کی ویڈیوز اور رابطے شامل ہیں۔علاوہ ازیں ضبط ہونے والی اشیا میں طلائی چوڑیاں اور کڑے 445 گرام، بریسلٹ کانٹے ہار چین اور لاکٹ 490 گرام،انگوٹھیاں بریسلٹ اور دیگر اشیا 355 گرام شامل ہے ، یعنی کل سونا 1922 اعشاریہ 5گرام جب کہ چاندی 898 گرام بھی برآمد ہوئی۔ضبط ہونے والے سامان میں مختلف برانڈز کی 69 گھڑیاں ، متفرق چیزیں 72 عدد برآمد ہوئیں جن کا کل وزن 355 گرام ہے ، اس کے علاوہ برآمد ہونے والی غیر ملکی کرنسی میں 5000 انڈین روپے ،2885 یوروز ،8592 ریال ،4250پاونڈز ، 2500ہانک کانگ ڈالر بھی شامل ہیں۔اسی طرح کنیڈین 200ڈالر، یو اے ای درہم 1440، ملائیشین کرنسی 84،1یوایس ڈالر،عراقی دینار 250 جوکہ پاکستانی 7کروڑ 17لاکھ65ہزار بنتے ہیں ہیں ،ضبط کر لیے گیا۔علاوہ ازیںپولیس نے صرف ایک دن کی روپوشی کے بعد حافظ سعد رضوی اور انس رضوی کا سراغ لگا لیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق دونوں رہنما اچانک منظرِ عام سے غائب ہو گئے تھے، جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں آئے۔حکام نے کہا کہ خفیہ ذرائع اور ٹیکنیکل ٹریکنگ کی مدد سے ان کا ٹھکانہ معلوم کر لیا گیا ہے، سکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور کارروائی کے لیے تیار کھڑے ہیں، دونوں رہنماؤں کو پرامن طریقے سے خودسپردگی کی ہدایت کی جاتی ہے۔پولیس کے مطابق اگر وہ زخمی ہیں تو ریاست طبی سہولیات فراہم کرے گی بشرطیکہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں، تاحال ان کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے ان کی معاونت کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی، ریاست نے نرمی کا دروازہ کھلا رکھا ہے، مگر قانون سے بھاگنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکام کے مطابق اب فیصلہ حافظ سعد اور انس رضوی کو کرنا ہے، مزاحمت یا خودسپردگی؟دریں اثناء سرکاری املاک، سڑک بلاک کرنے اور عوام کی املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمہ میں گرفتار ٹی ایل پی کے 17 کارکنوں کو انسداد دہشتگردی عدالت پیش کر دیا گیا۔انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزمان کو 17 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کی تفتیشی رپورٹ پیش کی جائے۔تفتیشی افسر نے ملزمان کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، ملزمان میں ابراہیم، حسنین، حافظ محمد نعیم، محمد پرویز سمیت دیگر شامل ہیں۔اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی، ملزمان کے خلاف تھانہ نواں کوٹ پولیس نے مقدمہ درج کیا۔قبل ازیںپنجاب پولیس نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کے گھر پر چھاپے کے دوران برآمد ہونے والے سامان کی تفصیل جاری کردی۔پولیس کے مطابق سعد رضوی کے گھر سے چھاپے کے دوران ملکی و غیر ملکی کرنسی، طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں، پرائز بانڈز اور دیگر قیتمی سامان برآمد ہوا۔پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران کروڑوں روپے نقد اور زیورات برآمد ہوئے۔ سعد رضوی کے گھر سے 14 کروڑ 44 لاکھ کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی۔غیرملکی کرنسی میں 50 ہزار کی بھارتی کرنسی بھی شامل ہے۔پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سعد رضوی کے گھر سے برطانیہ، کینیڈا، سعودی عرب، یو اے ای کی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔ برآمد غیرملکی کرنسی کی مالیت 25 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔پنجاب پولیس کے مطابق سعد رضوی کے گھر سے 6 کروڑ 34 لاکھ سے زائد مالیت کا سونا بھی برآمد ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سعد رضوی کے گھر سے پولیس کے مطابق برا مد ہوئی پولیس نے کی کرنسی کے دوران
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔