افغانستان کو پاکستان کی 44 سالہ خدمات کو تسلیم کرنا چاہیے: حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) افغانستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاک فوج کی کامیاب جوابی کارروائی پر وزیر ریلوے نے خراجِ تحسین پیش کیا۔
اپنے بیان میں وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے، ہمارے محافظوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ملک کی حفاظت محفوظ ہاتھوں میں ہے، کسی ملک کو پاکستان کی سلامتی پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کی 44 سالہ خدمات کو تسلیم کرنا چاہیے، افغانستان کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
پاکستان کا جواب افغانستان میں فتنہ الہند کے دہشتگردوں کو بے اثر کرنے کیلئے ہے،اسحاق ڈار
ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے جوان ملک کے چپے چپے کی حفاظت پر مامور ہیں، پاکستان کا بچہ بچہ اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، پاکستان اُن ممالک میں سے نہیں جو اپنی سرحدوں پر سمجھوتہ کر لیں، پاکستان نے ہمیشہ امن اور بھائی چارے کو ترجیح دی ہے، اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ضرور دیا جائے گا۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں، طاقت کی علامت ہے، وطنِ عزیز کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے جائیں گے، قوم اپنے بہادر سپاہیوں پر فخر کرتی ہے۔
سندھ حکومت نے صوبے بھر میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144نافذ کردی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان کی کی حفاظت
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔