طالبان حکومت نے دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نا کیے تو پاکستان اپنےعوام کےدفاع کے لیے دہشت گرد اہداف کو نیوٹرالائز کرتا رہے گا، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی ایس پی آر نے بھارت کو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سہولت کار قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت بعض دہشت گرد عناصر کی مدد اور سرپرستی میں ملوث ہے، وہ بھارت سےمل کرعلاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ طالبان حکومت کو دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی ترک کرنی ہوگی، پاکستانی عوام اور ریاست افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کو فوری اور قابلِ توثیق اقدامات سے ختم کرے ۔آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا کہ طالبان حکومت نے دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نا کیے تو پاکستان اپنےعوام کےدفاع کے لیے دہشت گرد اہداف کو نیوٹرالائز کرتا رہے گا۔ئی ایس پی آر کی جانب سے مزید کہا گیا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کسی بھی خطرناک یا جارحانہ اقدام سے باز رہے اور افغان عوام کی بہبود، امن، ترقی اور خوشحالی کو مقدم رکھے۔
پنجاب میں 7 بڑے سیکٹرز میں انویسٹمنٹ کیلیے سعودی سرمایہ کاروں کا اظہار دلچسپی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہ طالبان حکومت ا ئی ایس پی ا ر کے لیے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے