عمران خان کی نومنتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لیے خاص ہدایات
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور:
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ کے لیے خاص ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری اور صوبائی کابینہ کے حوالے سے بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پارلیمانی پارٹی (کے پی کے) کو پہنچا دی گئی ہیں۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ صوبائی کابینہ منتخب کرنے کا مکمل اختیار نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دے دیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی منتخب نمائندے یا ٹکٹ ہولڈرز میں سے کابینہ تشکیل دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز سے متعلق پیغام سہیل آفریدی تک پہنچا دیا گیا ہے اور سہیل آفریدی کی حلف برداری کے بعد کابینہ کی تشکیل کا معاملہ طے کیا جائے گا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے مرکزی قیادت کے ساتھ کابینہ تشکیل پر مشاورت بھی کی ہے، جس کے بعد کچھ وزرا کو تبدیل نہ کیے جانے کے بھی امکانات ہیں۔ اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم اپنی ذمے داریاں نبھاتے رہیں گے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی
پڑھیں:
وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم، عدالت جانے کا اعلان
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا 10 گھنٹے سے جاری دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی ر پورٹ کے مطابق دھرنے میں علامہ ناصر عباس کی آمد کے بعد ایک مشاورتی نشست ہوئی جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت محمود خان اچکزئی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی بھی شریک تھے۔
مشاورت کے بعد فیصلہ سامنے آیا کہ نمازِ فجر کے فوراً بعد وزیرِ اعلیٰ اپنا دھرنا ختم کر دیں گے اور آئندہ لائحہ عمل کے لیے منگل کے روز دوبارہ کارکنوں کو احتجاج کی کال دی جائے گی۔ اسی دوران یہ بھی طے پایا کہ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے آج ہی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ قانونی راستے سے بھی اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
مشاورت مکمل ہونے کے بعد علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی دھرنے کے مقام سے روانہ ہو گئے، جب کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی وہیں موجود رہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ یہ دھرنا کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ وزیرِ اعلیٰ کو یقین تھا کہ بطور صوبائی چیف ایگزیکٹو انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت ملے گی، لیکن حالات اس کے برعکس نکلے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی شرافت کی زبان نہیں سمجھتا۔ سہیل آفریدی نے جمہوری حق کے اظہار کے لیے دھرنے کا راستہ اختیار کیا، بظاہر یہ دھرنا عدالتی حکم تک جاری رہتالیکن حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے لیے وقتی طور پر اسے ختم کرنا ضروری ہو گیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات یقینی بنانی ہے تو پارٹی اپنی عوامی قوت استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر کارروائی آگے بڑھاتے رہیں۔