نومنتخب وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی آج گورنر ہاؤس میں حلف اٹھائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی ہلچل کے بعد صوبے کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آج شام حلف اٹھائیں گے۔
حلف برداری کی یہ تقریب شام 4 بجے گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوگی، جس کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ گورنر ہاؤس نے باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس کو تقریب کے وقت اور مقام سے آگاہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی گزشتہ شب کراچی سے پشاور پہنچے، اور وہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق حلف لیں گے۔ قبل ازیں عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح ہدایت دی تھی کہ نئے وزیراعلیٰ سے آج شام 4 بجے تک حلف لیا جائے، بصورت دیگر صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ خود حلف برداری کرائیں۔
عدالت کے اس فیصلے کے بعد صوبائی سیاسی کشیدگی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے گزشتہ روز گورنر کو ایک باضابطہ مراسلہ بھی بھیجا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد میں مزید تاخیر نہ کی جائے ورنہ بطور اسپیکر وہ آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے حلف لیں گے۔
ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کراچی میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ موجود تھے جب انہیں عدالت کے حکم سے آگاہ کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے پارٹی نظم و ضبط کے تحت گورنر کو فوری طور پر پشاور روانگی اور عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت دی۔
واضح رہے کہ پیر کے روز صوبائی اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ چونکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفا باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوا، لہٰذا سہیل آفریدی کا انتخاب آئینی طور پر متنازع ہے۔ اسی بنیاد پر گورنر نے بھی حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔
بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور اسمبلی کے فلور پر استعفا دے چکے ہیں، اس لیے کسی قانونی ابہام کی گنجائش نہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں یہ درخواست بھی دی گئی تھی کہ اگر گورنر حلف نہ لیں تو اسپیکر کو حلف لینے کا اختیار دیا جائے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے نے نہ صرف آئینی ابہام دور کیا بلکہ صوبائی انتظامی معاملات میں استحکام کا راستہ بھی کھول دیا ہے۔ آج کی تقریب کے بعد خیبرپختونخوا کی نئی کابینہ کی تشکیل کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ سہیل آفریدی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت میں شفافیت، اچھی حکمرانی اور عوامی خدمت کے ایجنڈے کو ترجیح دیں گے۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کے بعد
پڑھیں:
عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی پارلیمانی کارروائی روکنے کی دھمکی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بانی تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھے رہے تاکہ انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت مل سکے، تاہم رات بھر انتظار اور کوششوں کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
ہفتہ کی صبح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالت پہنچے، جہاں انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کی درخواست کی، لیکن چیف جسٹس نے ان سے ملنے سے انکار کردیا، صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ۔
وزیراعلیٰ آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ تمام آئینی و قانونی دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں، لیکن اب بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح اعلان کیا کہ اگر انہیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وہ پارلیمنٹ کی کارروائی آگے نہیں بڑھنے دیں گے، منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور وہ اس سلسلے میں کارکنان کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر عدالتیں انصاف فراہم نہ کرسکیں تو لوگ خود انصاف لینے پر مجبور ہوجائیں گے، عوام قانون ہاتھ میں لیں گے تو حالات خراب ہوں گے اور پھر کوئی بھی انہیں کنٹرول نہیں کر پائے گا۔
وزیراعلیٰ کے اس سخت اور غیر معمولی مؤقف کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے، جبکہ نفری میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔