نئےوزیراعلیٰ کے پی پرچی نہیں ، فرشی وزیرِ اعلیٰ ہیں: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ نے اسمبلی کے ایوان میں بڑی بڑھکیں لگائی ہیں، وزیرِ اعلیٰ کے پی کہتے ہیں وہ پرچی کے ذریعے وزیرِ اعلیٰ نہیں بنے، وزیراعلیٰ کے پی پرچی نہیں بلکہ فرشی وزیرِ اعلیٰ ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں وزیرِاعلیٰ دو خواتین کی لڑائی میں تبدیل ہوتے ہیں، مجھے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کی قسمت پر ترس آتا ہے، خیبر پختونخوا میں وزیرِاعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی طور پر کیا گیا۔
سیمنٹ سستاہوگیا
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں اپنی چھت اپنا گھر منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے، دیہات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈ کا منصوبے بھی روبہ عمل ہے، سعودی وفد نے پنجاب میں لائیو اسٹاک کے شعبے میں سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے، لائیو اسٹاک کے حوالے سے آسان اقساط پر قرضے بدستور جاری کیے جا رہے ہیں۔
عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے بچوں کے لیے نیوٹریشن پروگرام جاری ہے، اب تک تقریبا 10 لاکھ بچے اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔
نادرا کی جانب سے شہریوں کیلئے نئی سہولت
اِن کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تمام سیلاب متاثرین کی بحال کا عمل مکمل کیا جائے گا، لوگوں کی جان و مال تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کے نقصانات کا سروے کر رہی ہے، سیلاب متاثرین کے سروے کے دوران پروپیگنڈا کیا گیا، کسی بات کا تماشا بنانے اور کام کر کے دکھانے میں بہت فرق ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی کے نام پر سڑکوں کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کسی کو بھی صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025ء منظور، اپوزیشن کا شور شرابا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔