وزیراعلیٰ اتر پردیش کے ناپاک عزائم، نام نہاد سیکولر بھارت کا خطرناک چہرہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
فاشسٹ مودی حکومت ہندوتوا ایجنڈے کے لیے مذہبی آزادی اور اقلیتوں کی شناخت مٹانے میں مصروف ہے۔
سفاک مودی کا بھارت مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں سمیت تمام اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ اتر پردیش کے ناپاک عزائم نے مودی کے نام نہاد سیکولر بھارت کا خطرناک چہرہ بے نقاب کر دیا۔
وزیرِ اعلیٰ اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے خطاب کے دوران کہا کہ اگر واقعی امن اور ہم آہنگی قائم کرنی ہے تو سب کو سناتن دھرم کو اپنانا ہوگا۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ سناتن دھرم ہی سب کی حفاظت اور ہر ایک کی بھلائی کا راستہ فراہم کرے گا، اگر سناتن دھرم کو بچانا ہے تو ہمیں سنسکرت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ انتہا پسند وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش میں پہلے ہی متعدد مساجد کو شہید کر چکا ہے۔ مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے مذہبی مقامات پر حملے اور عقیدے کی جبری تبدیلی مذہبی آزادی کا قتل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اتر پردیش
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :