شہید حکیم محمد سعید کی خدمت خلق مشن کی تکمیل ہمارا عزم ہے، مقررین
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیر صدارت شہید حکیم محمد سعید کی 17 اکتوبر کی برسی کے سلسلے میں یادگاری تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کا موضوع شہید حکیم محمد سعید اور خدمت خلق تھا۔تقریب سے سابق وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان، سابق گورنر سندھ اور ہمدرد شوریٰ کراچی کے اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر، ڈپٹی اسپیکر کرنل (ر) مختار احمد بٹ، ہمدرد پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر فیصل ندیم، اور رکن شوریٰ ڈاکٹر رضوانہ انصاری نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید نے علم، اخلاق اور طب یونانی کے فروغ کے ذریعے خدمتِ انسانیت کی مثال قائم کی۔ وہ سادگی، حب الوطنی اور اخلاص کے پیکر تھے جنہوں نے مدینۃالحکمہ اور ہمدرد نونہال اسمبلی جیسے ادارے قائم کرکے قوم کے لیے فکری و اخلاقی روشنی کا راستہ روشن کیا۔اس موقع پر ہمدرد نونہال اسمبلی کے مقررین **مریم فاطمہ، عائشہ فواد اور سید شجاع** نے خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ شاعرہ ہمابیگ اور مدیر کلیم چغتائی نے اپنے کلام کے ذریعے شہید کو یاد کیا۔ تقریب کا اختتام طلبہ کی پیش کردہ **دعائے سعید** پر ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہید حکیم محمد سعید
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔