پولیس اہلکار کو ہیرو بننا مہنگا پڑگیا، گاڑی سے لٹکے ہوئے سڑک پر گھسیٹنے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور کے علاقے گلبہار میں ایک پولیس اہلکار کی ڈرامائی کوشش نے اسے ہیرو بننے کے بجائے مشکل میں ڈال دیا۔
جی ٹی روڈ پر پیش آنے والا یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک پولیس اہلکار نے کپڑا اسمگل کرنے والے چنگچی رکشہ کو روکنے کےلیے چلتی ہوئی گاڑی کو پکڑ لیا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار نے گاڑی کو روکنے کےلیے ڈرامائی انداز اختیار کیا۔ تاہم ڈرائیور نے گاڑی روکنے کے بجائے اپنا راستہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار گاڑی کے ساتھ چمٹ گیا اور کچھ فاصلہ تک گاڑی کے ساتھ سڑک پر گھسٹتا رہا۔
ویڈیو میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار نے گاڑی کو روکنے کی پوری کوشش کی، لیکن اسمگلر ڈرائیور نے نہ صرف گاڑی نہ روکی بلکہ پولیس اہلکار کو گاڑی کے ساتھ گھسیٹتا رہا۔ اس ڈرامائی منظر نے راہگیروں کو بھی حیران کردیا۔
اس واقعے کے بعد پولیس محکمہ کی طرف سے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز نے اس پولیس اہلکار کو معطل کردیا ہے۔ محکمہ پولیس کے مطابق اہلکار نے بغیر کسی مناسب بیک اپ کے خطرناک طریقہ کار اختیار کیا، جس سے اس کی اپنی جان کو بھی خطرہ تھا۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔ کچھ صارفین پولیس اہلکار کی بہادری کو سراہ رہے ہیں تو دوسرے اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ’’ہیرو بننے کا شوق پورا ہوا مگر طریقہ کار غلط تھا۔‘‘ جبکہ دوسرے صارف نے کمنٹ کیا ’’کم از کم کوشش تو کی، بہت سے لوگ تو یہ کوشش بھی نہیں کرتے۔‘‘
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں مناسب طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے اور بغیر بیک اپ کے ایسی کارروائی کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ قواعد و ضوابط کے بھی خلاف ہے۔ اب معطل اہلکار کے خلاف داخلی تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار اہلکار نے طریقہ کار
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔