کوئٹہ میں دو بم دھماکے، بی ڈی ایس ٹیم کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہفتے کی صبح ایک بڑا دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
قمبرانی روڈ کے علاقے لنک شاہوانی کراس کے قریب پولیس ناکے کے پاس پہلے ایک کریکر دھماکہ ہوا جس کے فوراً بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد میں دوسرا دھماکہ ہوگیا، دونوں دھماکوں میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دھماکے میں بی ڈی ایس کی گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا مگر گاڑی میں سوار تمام اہلکار محفوظ رہے، پولیس نے فوری طور پر پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں دھماکے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیے گئے اور ان کا واضح ہدف پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچانا تھا لیکن دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہے۔
پولیس حکام کے مطابق ہمارے جوان ہر لمحہ جان کی بازی لگا کر شہریوں کی حفاظت کر رہے ہیں، آج کا واقعہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے، ملزمان کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے شہر بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے اور حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔