آئی ایم ایف پروگرام کا جہاں نقصان ہے وہاں فائدہ بھی ہے، تجزیہ کار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
تجزیہ کار شہبازرانا نے کہا ہے آئی ایم ایف پروگرام کا جہاں نقصان ہے، وہاں فائدہ بھی ہے ۔
انھوں نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام دی ریویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا عالمی ادارے نے گزشتہ ہفتے دبائو ڈالا بدعنوانی اور حکمرانی کے متعلق اس کی رپورٹ شائع نہیں کی جاتی ، تب تک بورڈ کا اجلاس نہیں ہوگا، اب 8 دسمبر کو اگلی قسط ملے گی۔
اس کی ایک اور شرط تھی جانوروں کی گنتی مکمل کی جائے جو اب کرلی گئی ،جس کانمبر سامنے آجائے گا۔لیبرفورس کے نئے سروے کے مطابق بیروزگاری کی شرح 7.
احسن اقبال کے مطابق ماحولیاتی تباہی سے ملک میں بیروزگاری بڑھی۔یہ حکومت اخراجات پرقابو پا کر اقتصادی حالت بھی صحیح نہیں کرسکی۔
کامران یوسف نے بتایاپاکستان کو خارجہ سطح پر کامیابیاں مل رہی ہیں،افغانستان کے ساتھ سفارتکاری کو موقع دیا جارہاہے تاہم دہشتگردی جاری رہی تو پاکستان جواب دے گا،اب تک ایسا نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ثالتی اپنا کردا ادا کررہے ہیں۔
ماضی میں جب ہم ایران کے قریب جاتے تھے توسعودی عرب ناراض ہوجاتا ،اس کے ساتھ قربت بڑھاتے تو ایران کومسئلہ ہوجاتا۔تاہم جب پاک سعودی دفاعی معاہدہ ہواتوایران نے خوش آمدید کیا۔سعودی عرب کو بھی ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہترہونے پراعتراض نہیں ہے۔
ایران کادوطرفہ تجارت میں تمام رکاوٹیں ختم اورنیا مکینزم بنانے کافیصلہ کیا ہے۔وہ پاک ،افغان کشید گی کے تناظر میں علاقائی کانفرنس اگلے ماہ کرائے گاتاکہ اس کاکوئی حل نکالا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔