پاکستان سب سے زیادہ موبائلزگیمز بنانے والے ممالک میں دوسرے نمبر پرآ گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اکتوبر2025ء) پاکستان طویل عرصے سے بڑی تعداد میں موبائل ایپس استعمال کرنے اور گیمزکھیلنے والے بڑے ممالک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہوں، ای کامرس کی ایپس ہوں، یا پھر PUBG جیسی مقبول ترین موبائل گیمز، پاکستانیوں کی بڑی تعداد ان کی شیدائی ہے۔یہ ساری ایپس پاکستان سے باہر کسی ملک میں بنائی گئی ہیں۔
لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان میں موبائل گیمز نہیں بنائی جاتیں۔ اس پورے خطے میں سب سے زیادہ گیمزبنانے والے ممالک میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔ ڈیجیٹل تحقیقاتی ادارے ڈیٹا دربار کے مطابق صرف 2024 میں پاکستان نے حیران کن طور پر 1,053 مقامی موبائل گیمز ریلیز کیں، جن میں 764 اینڈرائیڈ اور 289 آئی او ایس گیمز شامل ہیں۔(جاری ہے)
یہ تعداد نہ صرف فلپائن (800)، انڈونیشیا (725)، میکسیکو (163) اور مصر (133) جیسے ممالک سے زیادہ ہے بلکہ پاکستان کو خطے کا دوسرا بڑا گیم ڈیولپمنٹ حب بھی بناتی ہے۔
پاکستان سے آگے صرف ویتنام ہے، جس نے 2,715 گیمز ریلیز کیں۔تاہم، اس متاثر کن پیداوار کے باوجود پاکستانی گیمنگ اسٹوڈیوز کا عالمی سطح پر تذکرہ ناپید ہے۔ نہ کسی گیم کی کامیابی کی کوئی مشہور کہانی، نہ خاطر خواہ سرمایہ کاری، اور نہ ہی بڑی سطح پر کسی اسٹوڈیو کی خرید و فروخت (ایگزٹ)دیکھنے میں آئی ہے۔ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ پاکستانی ڈیولپرز کی جانب سے ہائپر کیژوئل گیمز پر انحصار ہے، جہاں مقابلہ انتہائی سخت ہوتا ہے اور ٹاپ چارٹس تک پہنچنا بے حد مشکل۔اس تناظر میں خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اس شعبے میں بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کا آغاز ہو گیا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔