اسرائیل نے غزہ میں امداد پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، اسرائیلی حملوں میں مزید 9 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسرائیل نے محصور غزہ پٹی میں داخل ہونے والی امداد پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں اور اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ بدستور بند رہے گی جبکہ اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائیوں میں کم از کم 9 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ منگل کو اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کو آگاہ کیا کہ بدھ سے روزانہ صرف 300 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی جو پہلے طے شدہ تعداد کا آدھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ کی تعمیر نو کے لیے 70 ارب ڈالر فنڈ، امریکا، عرب و یورپی ممالک کی مثبت یقین دہانیاں
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہم آہنگیِ انسانی امور کی ترجمان اولگا چیریویکو نے تصدیق کی کہ اسرائیل کی جانب سے باضابطہ اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں ایندھن یا گیس کی ترسیل پر مکمل پابندی ہوگی، سوائے ان مخصوص ضروریات کے جو انسانی ہمدردی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ہوں۔
اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ بدستور بند رہے گی جس کے باعث امدادی ترسیل مزید متاثر ہوگی۔ اقوام متحدہ کے پاس اس وقت 1,90,000 میٹرک ٹن امداد غزہ بھیجنے کے لیے تیار موجود ہے، مگر اسرائیلی پابندیاں اس عمل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
غزہ کی طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی اور جنوبی غزہ میں تازہ کارروائیوں کے دوران کم از کم 9 فلسطینیوں کو شہید کیا۔
6 افراد غزہ شہر میں اور 3 خان یونس میں جاں بحق ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: ترکی اور عراق کی شدید مخالفت کی وجہ سے نیتن یاہو نے غزہ سمٹ میں شرکت منسوخ کردی، رپورٹ
الاہلی عرب اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ شجاعیہ کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں نے 5 فلسطینیوں کو گولیاں مار کر شہید کیا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ شمالی غزہ میں فوج کے قریب آنے والے خطرے کو ختم کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی۔
یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان 4 روز قبل نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود تناؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ جنگ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے، جس کے تحت فریقین نے قیدیوں کا تبادلہ کیا تھا۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم 67,913 فلسطینی شہید اور 170,134 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,139 اسرائیلی ہلاک اور 200 سے زائد یرغمال بنائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات، غزہ جنگ بندی پر اظہار اطمینان
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی تمام سرحدی گذرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں تاکہ غذائی و طبی امداد کی ترسیل ممکن ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امداد غزہ فلسطین.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین اسرائیلی فوج کے لیے
پڑھیں:
اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ نہتے فلسطینی نوجوانوں کو بھون ڈالا؛ ویڈیو وائرل
غزہ کے بعد اسرائیلی فوج نے اب مغربی کنارے کو بھی اپنی سفاکیت، جارحیت اور مشقِ جنگ کا نیا مرکز بنالیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تمام حدیں پار کرلیں۔
اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار سرچ آپریشن کے لیے ایک عمارت پر پہنچے تھے جس کے گیراج سے دو فلسطینی نوجوان ہاتھ اُٹھائے باہر آتے ہیں اور دونوں کے پاس اسلحہ بھی نہیں ہوتا۔
صیہونی سیکیورٹی فورسز کے جارح مزاج اہلکاروں نے دونوں نوجوانوں کو زمین پر بٹھایا اور پوچھ گچھ کے بعد دوبارہ گیراج میں جانے کی ہدایت کی۔ جیسے ہی نوجوان اندر جانے کے لیے مڑے۔ گولیوں کی ترتراہٹ سے فضا گونج اُٹھی۔
جيش الاحتلال يعدم شابين بعد اعتقالهما في محيط مخيم جنين#قناة_الغد pic.twitter.com/4EhXlZXi2b
— قناة الغد (@AlGhadTV) November 27, 2025جس کے دوران دونوں فلسطینی نوجوان گولیاں لگنے سے موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ سامنے کی عمارت سے کسی نے اس دردناک لمحے کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال کر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کا چہرہ بے نقاب کردیا۔
ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو یہ سفاکانہ عمل بھی ایسے ہزاروں قتل کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دب جاتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ جس پر چار و ناچار اسرائیلی اسٹیٹ اٹارنی نے گولی مارنے والے اہلکار خلاف فوجداری تحقیقات شروع کر دیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مغربی کنارے میں پرتشدد اقدامات روکنے، یہودی بستیوں کی توسیع کو ختم کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے ٹیکس فنڈز بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق شہید ہونے والوں کی شناخت 26 سالہ محمود قاسم عبداللہ اور 37 سالہ یوسف عساسہ کے نام سے ہوئی۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ دونوں مشتبہ افراد دھماکوں اور فائرنگ کے حملوں میں ملوث تھے اور جنین کی اسلامک جہاد سے منسلک ہیں جس کی تصدیق اسلامک جہاد نے کی۔
اقوامِ متحدہ نے اور فلسطینی اتھارٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا اور عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے ملوث اہلکاروں کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ دہشتگردوں کو مار دینا چاہیے۔
خیال رہے کہ 7 اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی فوجی کارروائیوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی ان کارروائیوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
جس پر اسرائیل کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں مسلح افراد یا مظاہرین سے جھڑپوں کے دوران ہوئے ہیں۔