Express News:
2026-07-24@04:52:26 GMT

پی پی پی، (ن) لیگ سیز فائر

اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT

سیاسی جماعتیں ملکی سیاست کا اہم ترین عامل ہوتی ہیں، ایک حقیقی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور، نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر رائے دہندگان کو متاثرکر کے ان کے ووٹوں کی طاقت سے انتخابات میں فتح حاصل کر کے مسند اقتدار تک پہنچتی ہیں۔

ایک امریکی مصنف میک آئیور (Maciver) لکھتا ہے کہ ’’ سیاسی جماعتوں کے بغیر اصول اور منشورکا باقاعدہ بیان ممکن نہیں ہے۔ پالیسی کا بالترتیب ارتقا نہیں ہوگا۔ آئینی طریقے سے پارلیمانی انتخابات منعقد نہیں ہو سکیں گے اور نہ ہی تسلیم شدہ ادارے ہوں گے جن سے سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کر سکیں۔‘‘

ایک صحت مند جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں ایک ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں سیاسی جماعتوں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے،کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں ترقی و کامیابی کا دار و مدار عوام کے اطمینان اور متحرک سیاسی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔

سیاسی جماعتیں عوام میں اپنے اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر عوام میں سیاسی شعور بیدار کرکے ان میں سیاسی بصیرت اور سمجھ بوجھ پیدا کرتی ہیں، سیاسی اقتدار، جمہوری روایات اور نظم و ضبط کی پابندی کا سلیقہ اور قرینہ سکھاتی ہیں جس سے قابل، ذہین اور مثالی قیادت کا وجود عمل میں آتا ہے جو نہ صرف اپنی سیاسی جماعت کو منظم و متحرک رکھتا ہے بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کے فروغ اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

سیاسی جماعتیں حزب اختلاف میں ہوں یا حزب اقتدار میں، ہر دو صورت میں تحمل، برداشت، مثبت سوچ، جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات آئین و قانون کی پاسداری اور سیاسی استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتی ہیں جس سے صحت مند جمہوری نظام کو فروغ و استحکام حاصل ہوتا ہے۔

ہماری قومی سیاست میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کے دور اقتدار تک اصولوں اور نظریے کی سیاست کا وجود قائم رہا ہے۔ قائد کی وفات کے بعد پاکستان کی بانی سیاسی جماعت مسلم لیگ انتشار اور بحران کا شکار ہوگئی۔

قائد اعظم کے سیاسی اصولوں و نظریات کو مفادات کی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ مسلم لیگ اعلیٰ دماغی قیادت سے محروم ہوگئی اور مسلم لیگ کی باگ ڈور ایسے سیاسی بونوں کے ہاتھوں میں چلی گئی جو سیاسی نظریے، اصولوں، عوامی فلاح و بہبود اور حب الوطنی کے جذبے سے عاری تھے۔

قیام پاکستان کے بعد سے آج تک مسلم لیگ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر دھڑے بندیوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ مسلم لیگ کے زوال سے سیاسی بحرانوں نے جنم لیا، ہر لیگی دھڑے نے ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کرکے آمرانہ و حاکمانہ رجحانات کو فروغ دیا۔

ملک کی سیاست جمہوریت کے بجائے سیاسی آمریت کی راہ پر چل پڑی۔ ملک سیاسی آمریت سے عسکری آمریت کی آغوش میں چلا گیا، نتیجتاً 1971 کو قائد اعظم کا پاکستان دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔

 ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے بنائی۔ ملک کو 1973 میں ایک متفقہ آئین دیا، ایٹمی قوت بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ افہام و تفہیم سے سیاسی معاملات سلجھانے میں ناکام رہے۔

نتیجتاً انھیں اقتدار سے بے دخل کردیا گیا اور پھانسی ان کا مقدر بنی۔ بعدازاں میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کا جنم ہوا جس کی بنیاد پنجاب کی سیاست بنی، ادھرذوالفقارعلی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے سندھ کی سیاست سے آغاز کرکے پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان تک اپنی سیاسی جماعت پی پی پی کا دائرہ وسیع کردیا۔

 دونوں سیاسی جماعتوں کی سیاست کی بنیاد ایک دوسرے کی مخالفت پر قائم چلی آ رہی ہے۔ آپ میاں نواز شریف سے لے کر شہباز شریف اور مریم نواز تک اور بے نظیر بھٹو سے لے کر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو تک کے ماضی قریب و بعید کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں، صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے جنم اور اس کے بانی کی مخالفت میں وقتی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں ’’ سیزفائر‘‘ کرایا گیا، جسے دونوں نے اپنی سیاسی بقا کی خاطر بادل نخواستہ قبول کر لیا اور مخلوط حکومت بنا لی، لیکن دلوں کے اندر دبی مخالفت چھپانے میں ناکام رہے جس کا کھلا اظہار سامنے آگیا۔

سیاسی بیانات کی تلخی نے دونوں جماعتوں کے درمیان پھر سے خلیج پیدا کردی ہے۔ صدر آصف زرداری نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو ’’ سیز فائر‘‘ کا ٹاسک سونپا ہے۔ پیپلز پارٹی مریم نواز سے معافی کا مطالبہ کر رہی ہے جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب معافی پر آمادہ نہیں کہ وہ پنجاب کے حقوق کی بات پر کیوں معافی مانگیں۔

بلاول بھٹو نے 18 اکتوبر کو پارٹی کی ای سی سی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں (ن) لیگ سے کشیدگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر صورت حال نہایت کشیدہ تھی، سندھ میں شدید غم و غصہ تھا تو آصف زرداری نے ’’ پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ توقع یہی ہے کہ وزیر داخلہ کے توسط سے ’’ سیز فائر‘‘ کا پیغام بھیجا جائے گا اور دونوں پارٹیاں پرانی تنخواہ پر کام کرتی رہیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں سیاسی جماعتیں سیاسی جماعت جماعتوں کے اپنی سیاسی میں سیاسی کی بنیاد سے سیاسی کی سیاست مسلم لیگ

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو