پی پی پی، (ن) لیگ سیز فائر
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
سیاسی جماعتیں ملکی سیاست کا اہم ترین عامل ہوتی ہیں، ایک حقیقی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور، نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر رائے دہندگان کو متاثرکر کے ان کے ووٹوں کی طاقت سے انتخابات میں فتح حاصل کر کے مسند اقتدار تک پہنچتی ہیں۔
ایک امریکی مصنف میک آئیور (Maciver) لکھتا ہے کہ ’’ سیاسی جماعتوں کے بغیر اصول اور منشورکا باقاعدہ بیان ممکن نہیں ہے۔ پالیسی کا بالترتیب ارتقا نہیں ہوگا۔ آئینی طریقے سے پارلیمانی انتخابات منعقد نہیں ہو سکیں گے اور نہ ہی تسلیم شدہ ادارے ہوں گے جن سے سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کر سکیں۔‘‘
ایک صحت مند جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں ایک ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں سیاسی جماعتوں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے،کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں ترقی و کامیابی کا دار و مدار عوام کے اطمینان اور متحرک سیاسی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔
سیاسی جماعتیں عوام میں اپنے اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر عوام میں سیاسی شعور بیدار کرکے ان میں سیاسی بصیرت اور سمجھ بوجھ پیدا کرتی ہیں، سیاسی اقتدار، جمہوری روایات اور نظم و ضبط کی پابندی کا سلیقہ اور قرینہ سکھاتی ہیں جس سے قابل، ذہین اور مثالی قیادت کا وجود عمل میں آتا ہے جو نہ صرف اپنی سیاسی جماعت کو منظم و متحرک رکھتا ہے بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کے فروغ اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سیاسی جماعتیں حزب اختلاف میں ہوں یا حزب اقتدار میں، ہر دو صورت میں تحمل، برداشت، مثبت سوچ، جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات آئین و قانون کی پاسداری اور سیاسی استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتی ہیں جس سے صحت مند جمہوری نظام کو فروغ و استحکام حاصل ہوتا ہے۔
ہماری قومی سیاست میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کے دور اقتدار تک اصولوں اور نظریے کی سیاست کا وجود قائم رہا ہے۔ قائد کی وفات کے بعد پاکستان کی بانی سیاسی جماعت مسلم لیگ انتشار اور بحران کا شکار ہوگئی۔
قائد اعظم کے سیاسی اصولوں و نظریات کو مفادات کی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ مسلم لیگ اعلیٰ دماغی قیادت سے محروم ہوگئی اور مسلم لیگ کی باگ ڈور ایسے سیاسی بونوں کے ہاتھوں میں چلی گئی جو سیاسی نظریے، اصولوں، عوامی فلاح و بہبود اور حب الوطنی کے جذبے سے عاری تھے۔
قیام پاکستان کے بعد سے آج تک مسلم لیگ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر دھڑے بندیوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ مسلم لیگ کے زوال سے سیاسی بحرانوں نے جنم لیا، ہر لیگی دھڑے نے ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کرکے آمرانہ و حاکمانہ رجحانات کو فروغ دیا۔
ملک کی سیاست جمہوریت کے بجائے سیاسی آمریت کی راہ پر چل پڑی۔ ملک سیاسی آمریت سے عسکری آمریت کی آغوش میں چلا گیا، نتیجتاً 1971 کو قائد اعظم کا پاکستان دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے بنائی۔ ملک کو 1973 میں ایک متفقہ آئین دیا، ایٹمی قوت بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ افہام و تفہیم سے سیاسی معاملات سلجھانے میں ناکام رہے۔
نتیجتاً انھیں اقتدار سے بے دخل کردیا گیا اور پھانسی ان کا مقدر بنی۔ بعدازاں میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کا جنم ہوا جس کی بنیاد پنجاب کی سیاست بنی، ادھرذوالفقارعلی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے سندھ کی سیاست سے آغاز کرکے پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان تک اپنی سیاسی جماعت پی پی پی کا دائرہ وسیع کردیا۔
دونوں سیاسی جماعتوں کی سیاست کی بنیاد ایک دوسرے کی مخالفت پر قائم چلی آ رہی ہے۔ آپ میاں نواز شریف سے لے کر شہباز شریف اور مریم نواز تک اور بے نظیر بھٹو سے لے کر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو تک کے ماضی قریب و بعید کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں، صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے جنم اور اس کے بانی کی مخالفت میں وقتی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں ’’ سیزفائر‘‘ کرایا گیا، جسے دونوں نے اپنی سیاسی بقا کی خاطر بادل نخواستہ قبول کر لیا اور مخلوط حکومت بنا لی، لیکن دلوں کے اندر دبی مخالفت چھپانے میں ناکام رہے جس کا کھلا اظہار سامنے آگیا۔
سیاسی بیانات کی تلخی نے دونوں جماعتوں کے درمیان پھر سے خلیج پیدا کردی ہے۔ صدر آصف زرداری نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو ’’ سیز فائر‘‘ کا ٹاسک سونپا ہے۔ پیپلز پارٹی مریم نواز سے معافی کا مطالبہ کر رہی ہے جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب معافی پر آمادہ نہیں کہ وہ پنجاب کے حقوق کی بات پر کیوں معافی مانگیں۔
بلاول بھٹو نے 18 اکتوبر کو پارٹی کی ای سی سی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں (ن) لیگ سے کشیدگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر صورت حال نہایت کشیدہ تھی، سندھ میں شدید غم و غصہ تھا تو آصف زرداری نے ’’ پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ توقع یہی ہے کہ وزیر داخلہ کے توسط سے ’’ سیز فائر‘‘ کا پیغام بھیجا جائے گا اور دونوں پارٹیاں پرانی تنخواہ پر کام کرتی رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں سیاسی جماعتیں سیاسی جماعت جماعتوں کے اپنی سیاسی میں سیاسی کی بنیاد سے سیاسی کی سیاست مسلم لیگ
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز